Tuesday, July 15, 2014

Battle of Badr also known as Gazwa-e-Badr ...


Battle of Badr || Muslims: 300 soldiers, 2 horses. Stronghold of Quraish: 900 soldiers, 100 horses. The Muslims were against all odds, but the Prophet (PBUH) inspired great faith in the warriors of Allah, and before the battle said:
"Go forward full of faith, for Allah has promised either the caravan, or victory on the battlefield".
"اذهبوا و انتم عامرون بالإيمان فإن الله وعدنا إما القافلة وإما النصر في ميدان المعركة"


On that 17th day of Ramadan, while the Muslims were fasting and battling in the scorching heat of the Arabian Desert, they triumphed in one of the greatest battles this Ummah has ever face. During battle, Angel Jibreel (AS) approached Prophet Muhammad (PBUH) and asked him to take a handful of dust, and to throw it at the enemies. The Prophet (SAW) then threw the dust saying, "Confusion seize their faces!" Afterward, a miraculous sandstorm blinded the eyes of the pagans, distracting them with confusion and bewilderment. Allah reiterates this in His Book:
You did not kill them; it was God who killed them; and when you [Oh Prophet] threw [sand] at them it was not you, but God who threw it so that He might confer on the believers a great favour from Himself. Surely, God is all hearing, all-knowing. [8:17]
فلم تقتلوهم ولكن اللـه قتلهم ۚ وما رميت إذ رميت ولكن اللـه رمى ۚ وليبلي المؤمنين منه بلاء حسنا ۚ إن اللـه سميع عليم

The Sahaba who were battling alongside the Prophet (SAW) that day had noted to him (PBUH) that they had seen the heads of the enemies fly off without human assailment. Ibn 'Abbas said: While on that day a Muslim was chasing a disbeliever who was going ahead of him, he heard over him' the swishing of the whip and the voice of the rider saying: Go ahead, Haizi'm! He glanced at the polytheist who had (now) fallen down on his back. When he looked at him (carefully he found that) there was a scar on his nose and his face was torn as if it had been lashed with a whip, and had turned green with its poison. An Ansari came to the Messenger of Allah (PBUH) and related this event to him. He said: You have told the truth. This was the help from the third heaven (the Angels). Sahih Muslim

قال أبو زميل فحدثني ابن عباس قال بينما رجل من المسلمين يومئذ يشتد في أثر رجل من المشركين أمامه إذ سمع ضربة بالسوط فوقه وصوت الفارس يقول أقدم حيزوم. فنظر إلى المشرك أمامه فخر مستلقيا فنظر إليه فإذا هو قد خطم أنفه وشق وجهه كضربة السوط فاخضر ذلك أجمع. فجاء الأنصاري فحدث بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال صدقت ذلك من مدد السماء الثالثة
Allah confirms these divine interventions in the Quran: And Allah did certainly assist you at Badr when you were weak; be careful of (your duty to) Allah then, that you may give thanks. When you said to the believers: Does it not suffice you that your Lord should assist you with three thousand of the angels sent down? Yea! But if you are patient in adversity and conscious of Him, and the enemy should fall upon you of a sudden, your Sustainer will aid you with five thousand angels swooping down! [3:125]
بلى ۚ إن تصبروا وتتقوا ويأتوكم من فورهم هذا يمددكم ربكم بخمسة آلاف من الملائكة مسومين
Ramadan has been the month of victories for Islam since day one. Let us turn back to Book of Allah, the Qur’an, and fully appreciate the laws of civilization He has ordained upon us. We must wake up to Allah’s eternal justice, and realize that His word has been evaded and undermined as a result of our worldly desires.

May Allah guide us on the Quran & Sunnah, aid us in understanding their provisions thoroughly, and may He grant us an opportunity to implement their blessings, and to avoid their prohibitions. I ask Allah to enlighten us with wisdom, and to fill our hearts with submission. May Allah unite our ranks and enable us to reconcile our differences. Ya Allah, Your victory for the those who have given Your Book precedence over all.

اعتکاف کی فضیلت.......


اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ٹھہر جانے اور خود کو روک لینے کے ہیں۔اعتکاف کے معنی ہیں ’’جھک کر یک سوئی سے بیٹھ رہنا‘‘ اس عبادت میں انسان صحیح معنوں میں سب سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کے گھر میں یکسو ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائے۔ چنانچہ وہ اس گوشہٴ خلوت میں بیٹھ کر توبہ و استغفار کرتا ہے۔ نوافل پڑھتا ہے، ذکر و تلاوت کرتا ہے۔ دعا و التجا کرتا ہے اور یہ سارے ہی کام عبادات ہیں۔ اس اعتبار سے اعتکاف گویا مجموعہ عبادات ہےشریعت اسلامی کی اصطلاح میں اعتکاف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت کی غرض سے مسجد میں ٹھہرے رہنے کو کہتے ہیں۔

یعنی معتکف گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اُسے عملاً نیک اعمال کرنیوالے کی مثل پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔‘‘قرآن سے استدلال : وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ (سورہ بقرہ: 187) ترجمہ : جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو احادیث کی روشنی میں اعتکاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔ رمضان کے آخری دس دن، رات دن مسجد کے ایک گوشے میں گزارتے اور دنیوی معمولات اور تعلقات ختم فرما دیتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی پابندی سے اعتکاف فرماتے تھے کہ ایک مرتبہ آپ اعتکاف نہ بیٹھ سکے تو آپ نے شوال کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا۔ (صحیح بخاری، الاعتکاف، باب الاعتکاف فی شوال، حدیث : ۲۰۴۱)اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے رمضان میں دس دن کی بجائے ۲۰ دن اعتکاف فرمایا۔ (صحیح بخاری، الاعتکاف، حدیث: ۲۰۴۴)سيدنا ابى بن كعب رضى الله عنه نے بیان کیا کہ رسول الله صلی الله عليه وسلم رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے. ایک سال آپ صلی الله عليه وسلم (سفر کی وجہ سے) اعتکاف نہ بیٹھ سکے تو اگلے سال آپ صلی الله عليه وسلم نے بیس رات تک اعتکاف فرمایا.

 سنن ابو داؤد 2463 سيدنا ابو هريره رضى الله نے بیان کیا کہ رسول الله صلی الله عليه وسلم ہر سال رمضان میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے. لیکن جس سال آپ صلی الله عليه وسلم كا انتقال هوا اس سال آپ صلى الله عليه وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا تھا. صحیح بخاری 2044 سیدہ عائشہ رضی الله عنها نے بیان کیا کہ رسول الله صلی الله عليه وسلم اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے. اور آپ صلی الله عليه وسلم كے بعد ازواج مطہرات رضی الله عنهما اعتکاف کرتی رہیں. صحیح بخاری 2026رسول الله صلی الله عليه وسلم جتنی عبادت میں محنت رمضان کے آخری عشرہ میں کرتے اتنی اور دنوں میں نا کرتے تھے. صحیح مسلم 2788اعتکاف کے ضروری مسائلاس موقع پر اعتکاف کے ضروری مسائل بھی سمجھ لینے مناسب ہیںاس کا آغاز ۲۰ رمضان المبارک کی شام سے ہوتا ہے۔ مُعْتکِف مغرب سے پہلے مسجد میں آجائے اور نماز پڑھ کر مُعْتکِف(جائے اعتکاف ) میں داخل ہو۔اس میں بلا ضروری مسجد سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔بیمار کی مزاج پرسی ، جنازے میں شرکت اور اس قسم کے دیگر رفاہی اور معاشرتی امور میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ بیوی آکر مل سکتی ہے، خاوند کے بالوں میں کنگھی وغیرہ کر سکتی ہے۔ خاوند بھی اسے چھوڑنے کے لیے گھر تک جا سکتا ہے، اسی طرح اگر کوئی انتظام نہ ہو اور گھر بھی قریب ہو تو اپنی ضروریات زندگی لینے کے لیے گھر جا سکتا ہے۔

غسل کرنے اور چارپائی استعمال کرنے کی بھی اجازت ہے۔اعتکاف جامع مسجد میں کیا جائے، یعنی جہاں جمعہ کی نماز ہوتی ہو۔عورتیں بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے اعتکاف بیٹھنے کی جگہ مساجد ہی ہیں نہ کہ گھر، جیسا کہ بعض مذہبی حلقوں میں گھروں میں اعتکاف بیٹھنے کا سلسلہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات بھی اعتکاف بیٹھتی رہی ہیں اور ان کے خیمے مسجد نبوی میں ہی لگتے تھے، جیسا کہ صحیح بخاری میں وضاحت موجود ہے اور قرآن کریم کی آیت ﴿ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ ۙ فِي الْمَسٰجِدِ ﴾ (البقرة: ۱۸۷) سے بھی واضح ہے۔اس لیے عورتوں کا گھروں میں اعتکاف بیٹھنے کا رواج بے اصل اور قرآن و حدیث کی تصریحات کے خلاف ہے۔ تاہم چونکہ یہ نفلی عبادت ہے، بنابریں جب تک کسی مسجد میں عورتوں کے لیے الگ مستقل جگہ نہ ہو، جہاں مردوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بالکل نہ ہو، اس وقت تک عورتوں کو مسجدوں میں اعتکاف نہیں بیٹھنا چاہیے۔ایک فقہی اصول ہے (ردء ۔۔۔۔ المصالح) ’’یعنی خرابیوں سے بچنا اور ان کے امکانات کو ٹالنا بہ نسبت مصالح حاصل کرنے کے، زیادہ ضروری ہے۔‘‘ اس لیے جب تک کسی مسجد میں عورت کی عزت و آبرو محفوظ نہ ہو، وہاں اس کے لیے اعتکاف بیٹھنا مناسب نہیں اس لئے علما نے عورتوں کا گھر پر نفلی اعتکاف جائز قرار دیا ہےالله پاک ہمیں عمل کی توفیق دے اور ہماری عبادات کو قبول فرماے

Conquest of Mecca (Fatah e Makkah)





Riya Kari or Gheebat Se Bachna