Friday, October 24, 2014

محرم الحرام : عزت وحرمت كا مہینہ


محرم الحرام : عزت وحرمت كا مہینہ:
محرم الحرام كا مہینہ اسلامی تقويم يا اسلامي كيلندر كا بهلا مہینہ ہے اسي سے هجري سال كي شروعات هوتي ہے اس مہینہ كا نام محرم اس كي حرمت وعظمت كي پيش نظر پڑا اور اس كي يہ حرمت وعظمت اسی دن سے ہے جس دن سے اللہ عزوجل نے زمین وآسمان کی تخلیق فرمايئ ہے -
فرمان باری تعالی ہے:{إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌحُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ} {التوبة:36}
“ بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اللہ کی کتاب میں اس دن سے بارہ ہے جس وقت آسمان وزمین کی تخلیق ہوئ ہے ان میں سے چار مہینے حرمت کے ہیں یہی سیدھا دین ہے-
اس ماه كي فضيلت اس بات سے بهي واضح هوتي هے كه نبي كريم صلي الله عليه وسلم نےا سے الله كا مهينه قرار ديا ہے - حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( افضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرم)“ر مضان المبارک کے روزوں کے بعد افضل ترین روزےمحرم کےہیں (صحیح مسلم /الصيام 38حدیث رقم :١١٦٣)
سنن النسائی الکبری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ رمضان المبارک کے بعد سب سے افضل روزہ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا : اللہ کے اس مہینے کا روزہ جسے تم محرم کے نام سے یاد کرتے ہو ۔
{ سنن النسائی الکبری : 2906 ، ج:2/171 }
غور فرمائيں حديث مذ كور اور اس معنى كي ديگر احاديث میں مہینے کی نسبت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کی طرف کی ہے یعنی " اللہ تعالی کا مہینہ " حالانکہ سارے مہینے ہی اللہ تعالی کے پیدا کردہ اور متعین کردہ ہیں ، لیکن اس ماہ کی اہمیت کے پیش نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نسبت واضافت اللہ تعالی کے طرف کی ہے-

Virtues of Muharram and Fasting on 'Ashura'


Takabbur (Pride) in Islam - تکبر ذلیل کرتا ہے

٭ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی بھی اچھی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔ (صحیح مسلم۔ رقم:266)

٭ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر غرور ہو۔ وہ شخص دوزخ میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان ہو۔ (سنن ابن ماجہ۔ رقم:4173)

٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ فرماتا ہے: تکبر میری چادر ہے اور بڑائی میرا ازار۔ پھر جو کوئی ان دونوں میں سے کسی کے لیے مجھ سے جھگڑے، میں اس کو جہنم میں ڈالوں گا۔ (سنن ابن ماجہ۔ رقم:4174)

٭ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تکبر سے اپنے کپڑے کو لٹکائے گا، قیامت کے دن خداوند تعالیٰ اُس پر رحمت کی نظر سے نہ دیکھے گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: میرے کپڑے کا ایک کونہ خودبخود لٹک جاتا ہے، ہاں اگر میں اس کی نگہداشت رکھوں تو وہ نہ لٹکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم تکبر نہیں کرتے۔ (صحیح بخاری۔ رقم:3522)

٭حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت اور دوزخ آپس میں جھگڑا کریں گی۔ دوزخ کہے گی کہ میں متکبر اور ظالم لوگوںکے لیے مخصوص کردی گئی ہوں، اور جنت کہے گی کہ مجھ کو کیا ہوگیا ہے کہ مجھ میں صرف کمزور اور حقیر لوگ داخل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تُو میری رحمت ہے، میں تیرے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا۔ اور جہنم سے فرمائے گا کہ تُو عذاب ہے، میں تیرے ذریعے سے جن بندوں کو چاہوں گا عذاب دوں گا۔ (صحیح بخاری۔ رقم:4668)

٭حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کریں گے، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ 1۔ بوڑھا زانی۔ 2۔ جھوٹا بادشاہ۔ 3۔ مفلس تکبر کرنے والا۔ (صحیح مسلم۔ رقم:296)

٭ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ رب العزت آسمانوں کو لپیٹ لے گا، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زور والے (جابر) بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر والے کہاں ہیں؟ پھر زمینوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، زور والے بادشاہ کہاں ہیں؟ تکبر والے کہاں ہیں؟ (صحیح مسلم۔ رقم:7041)

٭ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علاماتِ قیامت یہ ہیں کہ لوگ فخر کریں گے مسجدوں میں (مطلب یہ ہے کہ لوگ تکبر کی نیت سے ایک دوسرے سے بڑھ کر عمدہ عمدہ مساجد تعمیر کریں گے اور ایک دوسرے کی تقلید میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی نیت سے مساجد تعمیر کریں گے اور ان کا مقصد رضائے الٰہی نہ ہوگا۔) (سنن نسائی۔ رقم:693)

٭ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تکبر، قرض اور غلول (خیانت) سے بری ہوکر فوت ہو، وہ جنت میں داخل ہوا۔ (جامع ترمذی۔ رقم:1637)

٭ حضرت زید خشعمیؓ کہتی ہیںکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتنا برا ہے وہ بندہ جس نے اپنے آپ کو اچھا سمجھا اور تکبر کیا اور بلند و بالا ذات کو بھول گیا۔ جو لہو و لعب میں مشغول ہوکر قبروں اور قبر میں گل سڑ جانے والی ہڈیوں کو بھول گیا۔ جس نے سرکشی و نافرمانی کی اور اپنی ابتدا اور انتہا کو بھول گیا۔ جس نے دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنایا۔ جس نے خواہشات کو راہ نما بنا لیا۔ جسے اس کی خواہشات گمراہ کردیتی ہیں۔ جسے اس کی حرص ذلیل کردیتی ہے۔ (جامع ترمذی۔ رقم:2579)

٭ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ اپنے اُن آباو اجداد پر فخر کرنے سے باز رہیں (جو زمانہ جاہلیت میں مرگئے)، وہ جہنم کا کوئلہ ہیں۔ اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک گوبر کے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوجائے گا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے تکبر اور آبا و اجداد کے فخر کو دور کردیا ہے۔ اب لوگ یا تو مومن متقی ہیں یا فاجر بدبخت۔ اور نسب کی حقیقت یہ ہے کہ سب لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ (جامع ترمذی۔ رقم: 4162)

٭ حضرت ابوامامہؓ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ سخت گرمی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع غرقد کی طرف جارہے تھے۔ کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتوں کی آواز سنائی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محسوس کیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، یہاں تک کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ذرا سا تکبر بھی پیدا نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ۔ رقم:245)

٭ حضرت عیاض بن حمارؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو وحی بھیجی کہ تواضع کرو، یہاں تک کہ کوئی مسلمان دوسرے پر فخر نہ کرے۔ (سنن ابن ماجہ۔ رقم:4179)

ظفر اﷲ خان

Takabbur (Pride) in Islam

Thursday, October 23, 2014

What does Gheebat (backbiting) mean? (غیبت کا مطلب)

غیبت کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے سامنے کسی کی برائیوں اور کوتاہیوں کا ذکر کیا جائے جسے وہ برا سمجھے ،جیسا کہ درج ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔
حضرت ابوہریره رضى الله عنه کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے فرمایا

تم جانتے ہو کہ غیبت کیاہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ا نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کاذکر اسطرح کرناکہ وہ اسے ناگوار گذرے، لوگوںنے کہا: اگروہ برائی اس میں موجود ہوتو؟آپ ا نے فرمایا: ”اگراس کے اندر وہ برائی موجود ہوتو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ برائی اس کے اندر موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔“مسلم

غیبت کی شناعت 

غیبت ایک بھیانک جرم ہے کیونکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے عیوب کی تشہیر کرکے اس کی آبروریزی کی جائے حالانکہ یہ سراسر حرام ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے۔

غیبت کی حرمت پر متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں

حضرت جابر بن عبداللہ رضى الله عنه سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے کہ سخت بدبو پھیلی تو آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو یہ کیسی بدبو ہے ؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
” ان لوگوں کی بدبو ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں “۔ مسنداحمد 3/351 
دوسری حدیث کے اندر آتا ہے کہ عائشہ نے صفیہ رضى الله عنها کی کوتاہ قامتی کا تذکرہ کیا جس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: لقد قلتِ کلمة لومُزجت بماءالبحر لمزجتہ (ابوداؤد) ”اے عائشہ ! تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اس کو دریا کے پانی میں ملا دیا جائے تو دریا کا پانی متغیر ہوجائے “۔

غیبت کا کفارہ

اگر کسی شخص کے سامنے غیبت کی قباحت عیاں ہوچکی ہے اور وہ اس عمل پر نادم وشرمندہ ہے تو اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس حرام فعل سے توبہ واستغفار کرتے ہوئے رک جائے ،پھر اگر وہ آدمی موجود ہو جس کی غیبت کی گئی ہے تو اس سے معافی مانگے ورنہ اس کے حق میں کثرت سے دعائے مغفرت کرے ۔

غیبت کا اخروی انجام

جولوگ دوسروںکی غیبت کرتے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن دردناک عذاب ہوگا جیساکہ نبی اکرم نے فرمایا:
”جب میں معرا ج کو گیا تو جہنم کے مناظر میں یہ دردناک منظر بھی دیکھا کہ ایک جماعت کے ناخن تانبہ کے ہیں جن سے وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے ہیں،میں نے جبریل ں سے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت جبریل ںنے فرمایا: ھولاءالذین یاکلون لحوم الناس ویقعون فی اعراضھم ”یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کاگوشت کھاتے تھے اور ان کی آبروریزی کرتے تھے ۔“ (مسنداحمد)

غیبت نیکیوں کو تلف کردیتی ہے

حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک دن صحابہ کرام رضى الله عنهم سے پوچھا : ”کیا آپ لوگ جانتے ہیں مفلس کون ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: مفلس تو وہی ہے جس کے پاس مال ومتاع نہ ہو،آپ نے فرمایا: مفلس میری امت میں وہ ہے جو قیامت کے دن صوم وصلاة ، زکاة سب عبادات لے کرآئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کی آبروریزی کی ہوگی ، کسی کا مال کھایاہوگا، کسی کا خون بہایاہوگا ،کسی کو ماراپیٹا ہوگا ،لہذا کسی کواس کی فلاں نیکی دے دی جائے گی اور کسی کو فلاں نیکی دے دی جائے گی۔ اس طرح اس کی سب نیکیا ںدوسروںکے حقوق دینے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گی تب ان حقداروں کے گناہ اس پرلاد دئیے جائیں گے ،اور اس طرح وہ جہنم میں ڈال دیاجائے گا ۔“ مسلم)

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص کسی مسلمان میں کوئی عیب دیکھے اور پھر وہ اسے چھپائے تو اس کا ثواب اس شخص کے برابر ہوگا جس نے کہ زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کو بچایا۔
(احمد/ترمذی/عن عقبہ عامرؓ)

سورة الهُمَزة
شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے (۱) جو مال کو جمع کرتا ہے اور اسے گنتا رہتا ہے (۲) وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اسے سدا رکھے گا (۳) ہرگز نہیں وہ ضرور حطمہ میں پھینکا جائے گا (۴) اور آپ کو کیا معلوم حطمہ کیا ہے (۵) وہ الله کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (۶) جو دلوں تک جا پہنچتی ہے (۷) بے شک وہ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی جائے گی (۸) لمبے لمبے ستونوں میں (۹)

اے اللہ ہمیں جھوٹ سے غیبت سے بچنے کی کوشش کی توفیق عطا فرما ۔۔۔

آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

What does Gheebat (backbiting) mean?

Wednesday, October 22, 2014

......نیت اور عمل...The Importance of the Intention and Its Value in Islam


......
نیت اور عمل
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بےشک اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے ۔۔۔ اور جتنی سچی اور مخلص نیت ہوگی ، اتنی ہی اثر پذیری ہوگی ۔
مگر دین صرف اور صرف نیتوں پر چلنے کا نام نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہو تو لوگ صرف یہ کہہ کر چھوٹ جاتے کہ اصل بات تو دل کی ہے ۔
ہمارے اعمال بھی اتنے ہی درست ہونے چاہئے جتنی کہ ہماری نیتیں نیک اور مخلص ہوں ۔

جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں درج ہے کہ :
اللہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے ۔
صحیح مسلم ، كتاب البر والصلة والآداب ، باب : تحريم ظلم المسلم وخذله واحتقاره ودمه وعرضه وماله ، حدیث : 6708
لہذا آپ کا اور ہمارا ایک ایک عمل بھی اللہ کی نظر میں اہمیت رکھے گا۔
یقیناََ ہر نیک عمل میں اچھی نیت کا اہتمام ضروری ہے اور دل کو ہر اس چیز سے صاف رکھنا چاہئے جس سے وہ عمل برباد ہو سکتا ہے ۔ جیسے ریاکاری اور نام و نمود و نمائش کا جذبہ یا دنیا کا لالچ اور اسی قسم کے خراب مفادات ۔
تاہم ۔۔۔ دلوں کا حال چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ، اس لیے اعمال کی اصل حقیقت قیامت والے دن ہی واضح ہوگی جب کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اچھا یا برا بدلہ ملے گا ۔
مگر اس دنیا میں تو انسان کے ساتھ اس کے ظاہری اعمال کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا اور اس کی اندرونی کیفیت کو اللہ کے سپرد کر دیا جائے گا ۔

The Importance of the Intention and Its Value in Islam