Tuesday, April 15, 2014

حضرت عمر بن عبدالعزیز ......... Hazrat Umer Bin Abdul Aziz

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ ایک مرتبہ ایک جنازہ کے ساتھ قبرستان گئے۔ قبرستان میں علیحدہ ایک جگہ بیٹھ کر سوچنے لگے ۔ کسی نے عرض کیا۔ امیرالمومنین! آپ اس جنازے کے ولی ہیں ۔ آپ ہی علیحدہ جاکر بیٹھ گئے۔ فرمایا! ہاں مجھے ایک قبر نے آواز دی۔ مجھ سے یوں کہا:ـ
 اے عمر ابن عبدالعزیز! مجھ سے تو یہ نہیں پوچھتا۔ کہ میں آنے والے کے ساتھ کیا کیا کرتی ہوں ۔ میں نے کہا۔ تو ضرور بتا۔ اس نے کہا۔ اس کا کفن پھاڑ دیتی ہوں ۔ بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہوں ۔ گوشت کھا جاتی ہوں اور بتاؤں آدمی ...کے جوڑوں کے ساتھ کیا کرتی ہوں ۔ کندھوں کو بازوؤں سے جدا کرتی ہوں ، کلائیوں کو پہنچوں سے ، پنڈلیوں کو بدن سے ، سرینوں کو رانوں سے جدا کرتی ہوں ، یہ فرمایا کہ عمر ابن عبد العزیز رونے لگے۔ فرمایا! دنیا کا قیام بہت تھوڑا ہے۔ اس میں جو عزیز ہے ۔ آخرت میں ذلیل ہے۔ اس میں جو دولت والا ہے۔ آخرت میں وہ فقیر ہے۔ آہ! ان کے عزیز و اقارب ، رشتہ دار، پڑوسی ، ہر وقت دلداری کو تیار رہتے تھے۔ لیکن اب کیا ہو رہا ہے؟ آواز دے کر ان سے پوچھ کیا گزر رہی ہے۔ غریب ، امیر۔ سب ایک میدان میں پڑے ہوئے ہیں ۔
ان کے مالدار سے پوچھ ، انکے مال نے کیا کام کیا۔ انکے فقیر سے پوچھ ، اس کے فقر نے اس کو کیا نقصان دیا۔ ان کی زبان سے پوچھ بہت چہکتی تھی۔ ان کی آنکھوں کو دیکھ جو ہر وقت دیکھتی تھیں ۔ ان کے نازک بدن کو معلوم کر کہاں گیا۔ کیڑوں نے ان سب کا کیا حشر بنایا۔ ان کے رنگ کالے کر دیے انکے منہ پرمٹی ڈال دی۔
آہ! کہاں ہیں ان کے وہ آرام دہ کمرے جن میں وہ آرام کیا کرتے تھے۔ کہاں ہیں ان کے وہ مال اور خزانے جن کو جوڑ جوڑ کر رکھتے تھے۔ ان کے حشم و خدم نے قبر میں ان کے لئے کوئی بستر نہ بچھایا۔ کوئی تکیہ نہ رکھ دیا بلکہ زمین پر ڈال دیا۔ اب وہ بالکل اکیلے پڑے ہیں ۔ ان کے لئے اب رات دن برابر ہے۔ آنکھیں نکل کر منہ پر گر گئیں ۔ گردن جدا ہوئی پڑی ہے۔ منہ سے پیپ بہہ رہی ہے۔ سارے بدن میں کیڑے چل رہے ہیں ۔ اس حال میں پڑے ہیں کہ انکی بیویوں نے دوسرے نکاح کر لئے۔ وہ مزے اڑا رہی ہیں ۔ بیٹوں نے مکانوں پر قبضہ کر لیا۔ وارثوں نے مال تقسیم کر لیا۔ یہ تھے اللہ والے۔ آخرت کا ڈر رکھنے والے۔ کہتے ہیں کہ ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا انتقال ہو گیا۔
اناللہ وانا الیہ راجعون۔

Hazrat Umer Bin Abdul Aziz 

Monday, March 17, 2014

اﷲ تیرا شکر ہے


ہم یہ کب کہیں گے کہ ’’اﷲ تیرا شکر ہے‘‘۔ ہمارے نانا مرحوم کہتے تھے کہ ہر وقت ہر حال میں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہا کرو کیونکہ ناشکری کرنے سے حسد اور حرص کو فروغ حاصل ہوتا ہے، بے چینی اور نفسیاتی امراض پیدا ہوتے ہیں اور انسان ناجائز ذرایع سے کمانے کے چکر میں مگن ہوجاتا ہے جس سے گھر اور خاندان کا امن بھی تباہ ہوجاتا ہے اور معاشرے کا بھی۔

آج ہمیں ان کی یہ بات بہت اچھے انداز میں سمجھ میں آتی ہے جب ہم ہر طرف دھوکا بازی اور نفسا نفسی کا ماحول دیکھتے ہیں، جب یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح بھرے بازار ایک موبائل حاصل کرنے کے لیے نوعمر لڑکے کسی معصوم بچے کی بھی جان لے لیتے ہیں۔

ہمارے نانا اکثر کہتے تھے کہ بیٹا! ہمیشہ اچھے لوگوں کو اپنا آئیڈیل اور ہیرو بناؤ۔ وہ اکثر ہمیں عمر بن خطابؓ کے تاریخی واقعات بھی سناتے تھے جو حکمران ہوکر بھی صرف ایک جوڑا پہننے کے لیے رکھتے تھے۔ اس وقت راقم کے سامنے امام غزالی کی ’’مکاشفات القلوب‘‘ (مترجم مولانا عبدالمجید) سامنے ہے، جس میں صفحہ نمبر 133 پر زیر بحث ’’جواز‘‘ کا توڑ موجود ہے۔ اس میں تحریر ہے کہ ’’رضا کا مفہوم یہ ہے کہ مقدر جیسا بھی ہو، اس پر دل راضی و مطمئن ہو۔ ایک عالم کا فرمان ہے: اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اس پر راضی ہوں، جو انھیں ملے۔ ایک حکیم کا کلام ہے: بعض خوشی بیماری ہے اور بعض بیماری شفاء ہے‘‘۔ اس کے بعد کتاب میں کچھ اشعار کے ترجمے اس طرح ہیں:

کئی نعمتیں آفات کی ڈاڑھوں میں تیرے لیے بند ہیں

اور جہاں سے تو مصائب کا انتظار کر رہا تھا، وہاں سے مسرتیں آئیں

اس لیے حوادث زمانہ پر صبر کر، اس لیے کہ تمام امور کے لیے کچھ انجام نہیں

اور ہر تنگی کے بعد فراخی ہے اور ہر آسانی میں مبتلا بھی ہے

امام غزالی آگے سورۃ البقر کی آیت پیش کرتے ہیں۔ (ترجمہ: اور ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو مگر وہ تمہارے لیے بہتر ہو)۔

غور کیجیے امام غزالی کے مندرجہ بالا حوالے کے بعد موجودہ دور میں رائج ’’جواز‘‘ کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟

درحقیقت اس قسم کے جواز ہم نے اپنی تسلی اور اطمینان کے لیے یا پھر عزت دار بننے کے لیے بنا رکھے ہیں۔ ہم نے پہلے تعیشات زندگی کو اپنا ماڈل بنایا اور پھر اس کے پیچھے چل پڑے اور پیسے کے حصول کے لیے ’’جواز‘‘ کے بت تراش لیے۔ ہم یہ بھول گئے ہمارے اسلاف کے جو رول ماڈل تھے وہ کردار کو بلند کرتے تھے، سادگی کو اپنا نشان بناتے تھے مگر ہم کردار کو ایک طرف رکھ کر تعیشات زندگی سے انسان کا معیار بنانے لگے ہیں۔تاریخ اسلامی کی شخصیات کو تو چھوڑیے تحریک پاکستان کے اپنے اسلاف کے کردار کو ہی دیکھ لیجیے۔

معیار زندگی کو کسی نے عروج پہ نہیں پہنچایا، نہ مال و دولت جمع کرکے اپنا قد بڑھانے کی کوشش کی ہاں البتہ مال و دولت خرچ کرکے اپنا قد ضرور قدآور بنایا۔ ان کے پاس بھی کئی قسم کے ’’جواز‘‘ کے مواقع تھے مگر انھوں نے کبھی ’’جواز‘‘ کے بت کو نہیں تراشا۔ قائداعظم، لیاقت علی خان اور نیچے آئیے تو حبیب جالب اور خالد علیگ جیسے شاعر۔ ان سب میں کسی نے اپنا مال و دولت بھارت سے آنے والے مہاجرین کی مدد میں صرف کردیا، کسی نے تنخواہ کے نام پر چند سکے ہی لیے تو کسی نے وقت کے حکمرانوں کی بیرون ملک علاج کی پیش کش کو ٹھکرادیا تو کسی نے وقت کے گورنر کے امدادی چیک کو ٹھکرا دیا۔ کیوں؟ کیا ان کے پاس لفظ ’’جواز‘‘ نہ تھا؟ جی نہیں! کیونکہ یہ عظیم لوگ تھے، عظیم کیوں تھے؟ اس لیے کہ ان میں ہوس نہیں تھی، مادہ پرستی نہیں تھی، وہ پیسے، معیار زندگی کو عظیم نہیں بلکہ کردار کو عظیم سمجھتے تھے۔

آئیے! ان جیسا بننے کے لیے، ان کے جیسے کردار کو اپنانے کے لیے ’’جواز‘‘ پیدا کریں اور اپنی اپنی اصلاح کریں، نہ کہ اپنے وطن، معاشرے اور ذات کو بکھیرنے کے لیے ’’جواز‘‘ کے بت تراشیں اور انھیں ’’نذرانے‘‘ یا ’’اوپر کی آمدنی‘‘ یا پھر ’’مجبوری‘‘ جیسے نام دیں۔

Enhanced by Zemanta

عہدہ اور معیار زندگی


حضرت عمرؓ نے جب حضرت سعید بن عامرؓ کو حمص کا گورنر مقرر کیا تو آپؓ دوڑے ہوئے حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ کو خدا کا واسطہ ہے، مجھے اس سے محفوظ رکھیں۔ حضرت عمرؓ نے غصے سے کہا کہ تم خود اس سے بچنا چاہتے ہو، اﷲ کی قسم تمہیں یہ ضرور قبول کرنا پڑے گا۔ جب حضرت سعید بن عامرؓ گورنر بن کر حمص جانے لگے تو حضرت عمرؓ نے ان کی تنخواہ مقرر کرنے سے متعلق رائے لی جس پر آپؓ نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے بیت المال سے ملنے والے وظیفے سے میرا گزارا ہوجاتا ہے بلکہ بچ بھی جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد حمص سے دیندار لوگوں کا ایک گروہ حضرت عمرؓ کے پاس آیا تو حضرت عمرؓ نے ان سے کہا کہ اپنے علاقے کے انتہائی غریب لوگوں کے نام لکھ کر دو تاکہ ان کی بیت المال سے امداد کی جائے۔ ان لوگوں نے حضرت عمرؓ کو نام کی فہرست تیار کرکے دی تو آپ نے ایک نام پر دریافت کیا کہ یہ سعید نام کس کا ہے، ان لوگوں نے جواب دیا کہ یہ ہمارے گورنر ہیں۔ حضرت عمرؓ نے جب حیرت سے پوچھا کیا واقعی تمہارے گورنر اتنے غریب ہیں تو ان لوگوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ خدا کی قسم! کئی کئی دن گزر جاتے ہیں مگر ان کے گھر میں چولہا نہیں جلتا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بہت روئے اس کے بعد انھوں نے ان لوگوں کو ایک ہزار سونے کے سکے نکال کر دیے کہ جاؤ یہ سکے گورنر کو دے دو۔

یہ سکے لے کر جب لوگ گورنر حضرت سعید بن عامرؓ کے پاس پہنچے تو انھوں نے سکوں پر نظر پڑتے ہی ’’اناﷲ واناالیہ راجعون‘‘ پڑھا اور رونے لگے آپ کی شریک حیات نے آکر پوچھا کہ ماجرا کیا ہے تو انھوں نے کہا کہ میرے گھر میں میری آخرت کو تباہ کرنے کے لیے دنیا داخل ہوگئی ہے۔ اس کے بعد آپؓ نے اپنی بیوی کے ذریعے وہ تمام سکے غریبوں میں تقسیم کرا دیے۔آئیے اب غور کریں اس میں ہمارے کام کے دو اہم ترین نکتے یا پیغام کیا ہیں؟ پہلا پیغام واضح طور پر بتا رہا ہے کہ کسی کی ذمے داری ملنا کوئی خوشی کی بات نہیں بلکہ ایک طرح کا بوجھ ہے، اگر عہدے سے انصاف نہ کیا جائے تو اﷲ تعالیٰ کے ہاں ضرور جواب طلبی ہوگی اور چونکہ عہدہ آنے کے بعد اس کا تعلق کسی نہ کسی طرح عوام یا لوگوں سے ضرور جڑ جاتا ہے لہٰذا اس میں ذرا سی بھی غفلت کا مطلب صرف حقوق اﷲ نہیں بلکہ حقوق العباد کی بھی جواب دہی کا سامنا کرنا پڑے گا اور حقوق العباد میں کسی سے زیادتی ہوگئی تو جب تک متاثرہ بندہ معاف نہ کرے حساب بے باک نہ ہوگا۔ دانشمند اور اﷲ والے لوگ اس بات کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں کئی ایسے لوگ مل جائیں گے کہ جنھوں نے کبھی بھی کسی بھی قسم کا کوئی عہدہ لینے کی خواہش نہیں کی بلکہ ملنے پر بھی اس ذمے داری سے ہر ممکن طریقے سے بھاگنے کی کوشش کی۔

یہ عہدے آج ہمارے معاشرے کے لیے ایک بہت بڑی بیماری بن چکے ہیں، ایک وزارت عظمیٰ کا ہی عہدہ کیا گلی کوچوں کی سطح پر بھی بننے والی چھوٹی چھوٹی انجمنوں حتیٰ کہ مساجد جیسے مقدس مقام کی انتظامیہ کے عہدوں کے انتخاب کے لیے بھی بھاگ دوڑ اونچے مقام پر نظر آتی ہے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ بعض عہدے تو محض ویلفیئر کے تحت ہوتے ہیں، یعنی ان کی تنخواہیں مقرر نہیں ہوتیں مفت میں کام کرنا ہوتا ہے لیکن اس مفت کے عہدے کے لیے بھی لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں روپے خرچ کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح مختلف اداروں میں انجمنیں، ایسوسی ایشنز اور مزدور یونین وغیرہ ہوتی ہے جہاں بھی عہدوں کے پیچھے بڑی بڑی کنوینسنگ اور لابی کی جاتی ہے یعنی وقت اور پیسے دونوں خوب لٹائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب یہ سب کچھ ہوگا تو پھر عہدے ملنے کے بعد اس سے فوائد بھی حاصل کیے جائیں گے، جو کسی اخلاقی، قانونی اور شرعی دائرے میں نہیں ہوں گے اور اس کے منفی اثرات بھی معاشرے پر پڑیں گے۔ یہی کچھ ہمارے معاشرے میں ہو رہا ہے۔ ذرایع ابلاغ میں کرپشن کی خبریں بھری پڑی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کا کیا حل ہوسکتا ہے؟ اس صورت حال کو کس طرح تبدیل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے؟ اس کا سیدھا سا ایک حل یہ ہے کہ کسی بھی پلیٹ فارم کے لیے عہدیداران کی تعداد کم سے کم رکھی جائے اور اس کی نامزدگی کے لیے بھی امیدوار کے خود سے انتخاب کے لیے پیش ہونے پر پابندی ہو یعنی کسی عہدے کے انتخاب کے لیے خود اپنے آپ کو پیش کرنے کا طریقہ ہی نہ رکھا جائے۔ راقم کے مشاہدے کے مطابق ہمارے ہاں ایک بھاری تعداد ایسی انجمنوں وغیرہ کی ہے جن کے قیام کی قطعی کوئی ضرورت نہیں، یہ محض معاشرتی اسٹیٹس اور ذاتی فوائد کے حصول کا ایک طریقہ ہے خدمت کا نہیں۔ راقم کے پیش کردہ حضرت سعید بن عامرؓ کے مذکورہ واقعے کی دوسری اہم ترین بات قناعت، اﷲ پر توکل اور کامیاب زندگی گزارنے کے عمل سے متعلق ہے جس میں گورنر جیسا اہم عہدہ حاصل ہونے کے باوجود ناجائز تو دور کی بات جائز مال دولت اکٹھا کرنے سے بھی اجتناب کرنے کا سبق ملتا ہے۔ آسان لفظوں میں یہ کہ کسی عہدے کی موجودگی میں خود کو نہ صرف حرام سے بلکہ حلال سے بھی کم سے کم مستفیض ہونا مبادا کہ کہیں آخرت میں جب حساب کتاب ہو تو مشکل پیش نہ آئے، جیسا کہ حضرت سعید بن عامرؓ کے الفاظ ہیں کہ آخرت تباہ نہ ہوجائے۔

آج ہمارا ایک اہم تر مسئلہ یہ بھی ہے کہ جس قدر بھی مال و دولت پاس ہو اس پر شکر ادا نہیں کیا جاتا نہ ہی اﷲ پر توکل کیا جاتا ہے بلکہ بے صبری کی انتہا یہ ہے کہ آج کل ذرایع ابلاغ خصوصاً ٹی وی چینلز پر بھی آکر ہزاروں نہیں لاکھوں روپے کی امداد مانگی جاتی ہے۔ مشکل حالات کا رونا رو کر گریہ و زاری کی جاتی ہے، بیماریوں کا رونا رویا جاتا ہے حالانکہ ہم میں سے اکثریت کا یہ ایمان ہے کہ شفا دینے والی اﷲ کی ذات ہے۔کیا آج کوئی تصور کرسکتا ہے کہ گورنر جیسے اہم عہدے پر فائز شخص کے گھر میں کئی کئی دن چولہا نہ جلتا ہو؟ اتنے بڑے عہدے پر تو ہونا دور کی بات، ایک معمولی ملازمت کرنے والا ہو یا مزدور عموماً ہم نہ صرف اپنی غریبی کا رونا روتے ہیں بلکہ مال زیادہ سے زیادہ کمانے کے چکر میں آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دغا بازی، دھوکا، فریب اور نہ جانے کیا کیا عمل کرتے ہیں، ہر دوسرا فرد کسی نہ کسی کی شکایت شکوہ لیے بیٹھا ہوتا ہے جب کہ ہمارے سامنے اسلامی سنہرے دور کی بے شمار شخصیات کے بے شمار واقعات راہ ہدایت کے لیے موجود ہیں لیکن شاید ہماری نظریں ان پہ نہیں بلکہ چند ایک مذہبی تہوار منانے یا پھر مختلف مسالک کے فرق کی معلومات تک محدود ہوگئی ہیں۔

آئیے ہم سب کی مشترکہ محبوب شخصیت حضورؐ کے اس فرمان پر غور کریں جس میں آپؐ نے فرمایا کہ ’’میرے رب نے میرے ساتھ معاملہ پیش کیا کہ اگر تم چاہو تو مکہ کے تمام پہاڑوں کو تمہارے لیے سونا بنا دوں، میں نے عرض کیا اے میرے رب! مجھے یہ منظور نہیں بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن پیٹ بھر کر کھاؤں تاکہ جس دن بھوکا رہوں تو تیری بارگاہ میں تضرع اور دعا کروں اور جس دن میں پیٹ سے بھرا ہوا ہوں اس دن تیری حمد و ثنا کروں‘‘۔آئیے عہدوں کے لالچ، ان کے پیچھے دوڑنے اور عہدے ملنے کے بعد جائز و ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹنے کے کلچر اور محض دولت اکٹھا کرنے کے کلچر کو اپنی کامیابی نہ تصور کریں، محض مختلف ناموں سے دینی، سیاسی اور فلاحی تنظیمیں بناکر اس میں درجن بھر سے زائد عہدے بانٹنا اور پھر خلوص کا دعویٰ کرنا خلوص کے قطعی برخلاف ہے، پھر ان عہدوں پر اپنے آپ پھولے پھولے پھرنا، اپنے آپ کو بھی دھوکا دینے کے مترادف ہے۔ آئیے اس کلچر کو قناعت، توکل اور سادگی کے کلچر میں تبدیل کرنے کے لیے اپنے اپنے طور پر کوششیں کریں۔

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری

Enhanced by Zemanta

Sunday, March 16, 2014

Sultan Muhammad Al-Fatih......سلطان محمد فاتح



سلطان محمد فاتح کا نام تاریخ اسلام میں اس لیے درخشاں ہے کہ اس نے مسیحی بازنطینیوں کے قبضے سے قسطنطنیہ کو نجات دلائی اور اس کو سلطنت اسلامی میں شامل کیا۔ یہ بادشاہ بے حد شائستہ، ادب و شعر کا قدر دان اور اعلیٰ درجے کا سخی اور فیاض تھا۔ سلطان محمد فاتح ترکان عثمانی کے سلسلہ سلاطین میں محمد ثانی کے نام سے موسوم ہے، وہ سلطان مراد ثانی کا سب سے عزیز فرزند تھا۔ 1417 ء کے قریب پیدا ہوا۔ اس کے باپ نے وصیت کی تھی کہ جس طرح بھی ہوسکے قسطنطنیہ کو ضرور فتح کرنا، کیوں کہ جب تک یہ دشمن کے قبضہ میں ہے، سلطنت عثمانیہ ہمیشہ مشکلات کا شکار رہے گی، چنانچہ محمد فاتح نے 1451ء میں تخت نشین ہوتے ہی تیاریاں شروع کردیں۔ محمد اول نے قسطنطنیہ کے سامنے مشرقی ساحل پر ایک قلعہ بنایا تھا۔ محمد ثانی نے تین مہینے کے اندر یورپی ساحل پر دو ہزار کاریگروں کی مدد سے ایک اور قلعہ تعمیر کردیا جس کو رومیلیا حصار کہتے ہیں اور جو آج تک موجود ہے۔ اس کے بعد قسطنطنیہ کے محاصرے کی تیاری شروع کردی۔ بڑی بڑی توپیں بنوائیں، سمندر کا رستہ بند کرنے کے لیے جنگی کشتیاں بھیجیں اور خود ادرنہ سے نوے ہزار فوج لے کر چلا۔ رومیوں نے سمندر میں زنجیریں باندھ رکھی تھیں، اس لیے ترکوں کا بیڑا داخل نہ ہوسکا۔ اس پر سلطان محمد ثانی نے خشکی پر چھ میل تک لکڑی کے تختے بچھوا کر انہیں چربی سے چکنا کیا اور راتوں رات ان تختوں پر سے کشتیوں کو دھکیلتا ہوا صبح باسفورس میں قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے پہنچ گیا۔ رومیوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عثمانیوں کا بیڑا خشکی پر سفر کرکے آبنائے میں پہنچ جائے گا۔ وہ سخت بدحواس ہوگئے۔ 22 مئی 1453ء کو عام حملے کا اعلان ہوا، قسطنطنیہ کا قیصر مارا گیا۔ گولا باری سے فصیل ٹوٹی اور شیران اسلام دھاڑتے ہوئے قسطنطینہ کے شہر میں داخل ہوگئے۔ سلطان ابا صوفیہ کے گرجا میں گیا اور نماز ظہر ادا کی۔ اس فتح کی وجہ سے سلطان محمد ثانی کو فاتح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

آنحضرتؐ بحیثیت سپہ سالار


 

قارئین قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے مضبوط عسکری قوت کا تصور جدید نہیں اس نے آج سے 1400 سو سال قبل اس وقت جنم لیا تھا جب ہمارے نبی کریمؐ نے مکہ سے ہجرت کے بعد مدینہ میں ایک نئی ریاست قائم کی۔ رسول کریمؐ کا کسی سے کوئی جھگڑا تھا نہ مدینہ کی ریاست کے کسی دوسری ریاست کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم تھے لیکن نبی کریمؐ کی عسکری بصیرت کا یہ کمال تھا کہ انہوں نے دفاعی جنگوں کیلئے نہ صرف فوجی لشکر کھڑے کئے بلکہ آپؐ نے اُن کی افرادی اور اجتماعی تربیت کا بندوبست بھی کیا۔ آج کی اکیسویں صدی کا اہل بصیرت سپہ سالار بیٹل لڑے بغیر اسی طرح جنگ جیتنا چاہتا ہے جیسے صلح حدیبیہ کے بعد نبی کریمؐ نے مکہ فتح کیا۔ جنگِ بدر میں گھوڑ سواروں، نیزہ برداروں اور پیادہ فوج کو یہ تربیت دی گئی کہ صف بندی کیسے کی جائے گی۔ گھوڑ سوار، نیزہ باز اور پیدل فوجی کس ترتیب میں کہاں کھڑے ہوں گے۔ 

بدر کا میدانِ جنگ بھی اس لئے چُنا گیا چونکہ اس کے قریب پانی کے ذخائر موجود تھے۔ جنگی حالات میں مخالف افواج میدان میں موجود اونچی پہاڑیوں پر قابض ہونے کی کوشش کرتی ہیں چونکہ پہاڑی کی چوٹیاں عسکری اعتبار سے بہترین دفاعی مورچے سمجھے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسرائیل شام کی سرحد پر اورگولان کی پہاڑیوں پر قابض ہے۔ بھارت سیاچن گلیشیر کے علاقے میں سولتارو پہاڑی سلسلے پر چڑھ دوڑا۔ پاکستان نے بھی اُن پہاڑیوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جو مقبوضہ کشمیر کے قصبے کارگل کے بالکل سامنے ہیں۔ یہ تصور بھی ہمارے پیارے نبیؐ نے اس وقت دیا جب آپؐ نے جنگِ اُحد میں اپنا مورچہ اُحد کے پہاڑوں پر بنایا اور دروں پر فوجی تعینات کئے۔

آج کے جدید دور میں سراغ رسانی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ دشمن کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے اس مقصد کے حصول کیلئے انسانوں، الیکٹرانک، انٹیلی جنس اور سیٹلائٹس کا استعمال ہوتا ہے۔ آج سے 1400 سال پہلے جب قریش کے جنگجو مدینہ پر حملے کی تیاری کر رہے تھے تو نبی کریمؐ نے اُن کی ساری حرکات پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ ذبح کئے جانے والے 10 اونٹوں سے رسول کریمؐ نے یہ اندازہ لگا لیا کہ دشمن کے لشکر کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہو گی۔ خندق کی جنگ میں ایک مصنوعی رکاوٹ کھود کر دشمن کی یلغار کو روکا گیا تو 1400 سال بعد اسرائیل نے مصر کے حملوں کو روکنے کیلئے نہر سویز کے کنارے پر دفاعی مورچوں سے لیس ایک بند بنایا جسے بارلیو لائن کہا گیا۔ 1940ء میں فرانس نے جرمن کا حملہ روکنے کیلئے اسی طرح کی رکاوٹ بنائی جسے مجینو لائن کہا گیا۔ اسی طرح معاشی ناکہ بندی کیلئے آج کے جدید دور میں اپنی مخالف قوتوں کو لڑے بغیر شکست دینے کیلئے آپ ان کی سپلائی لائنز کو کاٹتے ہیں۔ سابقہ مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کیلئے ہندوستان نے آبنائے بنگال میں پاکستانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی کی۔ چین کی معاشی ترسیل روکنے کیلئے امریکہ ایشیا پیسفک ریجن اور خصوصاً چین کے جنوبی سمندر میں مورچہ بندی کر رہا ہے۔ یہ تصور بھی نبی کریمؐ کی عسکری بصیرت سے اس وقت اُجاگر ہُوا جب آپؐ نے اہل مکہ خصوصاً قریش قبیلہ کے شام کے ساتھ تجارتی روابط کے راستوں کو کاٹنا شروع کیا۔

ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں رسول کریمؐ کی سیرت پر بہت سارے کالم لکھے گئے اورآپؐ کی شخصیت بحیثیت منصف، ناظم، امیر، والد، خاوند اور ریفارمر بہت تبصرے ہوئے۔ بہت کم لوگوں نے نبی کریمؐ کی شخصیت پر بحیثیت سپہ سالار یا فوجی جرنیل تبصرہ کیا۔ آج کے کالم میں مَیں نے ’’آنحضرت بحیثیت سپہ سالار‘‘ پر کچھ لکھنے کی عاجزانہ جسارت کی ہے۔ اس موضوع پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ قارئین ایک عسکری سالار کا سب سے مؤثر ہتھیار اس کی سپاہ کی تعداد یا اس کے ہاتھ میں جدید اسلحہ نہیں بلکہ سالار کی اپنی شخصیت اور کردار ہیں۔ نبی کریمؐ چونکہ ایک بلند پائے کے اعلیٰ ترین بشر یا انسان تھے اس لئے آپؐ ایک قابلِ فخر چوٹی کے سالار بھی تھے۔ اللہ کے ہر بندے کوآپؐ کی تقلید کرنی چاہئے اور آپؐکی تعلیمات پر چلنا چاہئے۔

کالم کا اختتام میں حضرت ابو ہریرہؓ کی اس روایت سے کر رہا ہوں جس میں انہوں نے بتایا کہ نبی کریمؐ نے اُن کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ؐ کو مندرجہ ذیل چیزوں کا حکم فرمایا ہے -1 میں کھلے اور چھپے ہر حال میں اللہ سے ڈروں -2 کسی سے ناراض ہوں یا خوش ہر حالت میں انصاف کروں -3 چاہے امیر ہوں یا فقیر، ہر حالت میں راستی اور اعتدال پر قائم رہوں -4 جو مجھ سے کٹے ہیں ان سے جُڑوں -5 جو مجھے محروم کرے میں اس کو دوں -6 جو مجھ سے زیادتی کرے میں اس کو معاف کر دو ں-7 میری خاموشی غور و فکر کی خاموشی ہو -8 میری نگاہِ عبرت کی نگاہ ہو -9 میری گفتگو ذکر الٰہی کی گفتگو ہو۔ ایک اچھا انسان اور بہترین سپہ سالار بننے کیلئے یہی رختِ سفر ہے۔

 


Enhanced by Zemanta

Saturday, March 15, 2014

خوفناک قحط.......Terrible famine


ایک سال شہر دمشق میں ایسا خوفناک قحط پڑا کہ لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ خشک سالی نے ہر کسی کو پیٹ کی فکر میں ایسا مبتلا کیا کہ لوگ عشق و عاشقی بھول گئے۔ بارش بالکل نہ برسی، حتیٰ کہ کھیتوں اور نخلستانوں کے بیل بوٹے مرجھا گئے، یتیموں کے آنسوئوں کے سوا ہر پانی سوکھ گیا، تمام چشمے بے آب ہوگئے، گھروں سے لوگوں کی آہوں کے دھویں نکلا کرتے تھے۔ درختوں کے پتّے جھڑ گئے اور وہ ٹنڈمنڈ اور تہی دست نظر آنے لگے۔ بڑے بڑے پہلوانوں اور طاقت وروں کو بھوک نے نڈھال اور عاجز کردیا۔ اس خشک سالی میں جب میرا دوست مجھ سے ملنے آیا تو میں نے دیکھا کہ بھوک نے اس کا سارا گوشت گھلا دیا ہے اور کھال ہڈیوں سے چپک گئی ہے۔

اس کا یہ حال دیکھ کر مجھے سخت تعجب ہوا۔ یہ اچھا خاصا صاحبِ ثروت آدمی تھا۔ جب میں نے اس کا حال پوچھا تو وہ غضبناک لہجے میں بولا:

’’بے وقوف تجھے معلوم نہیں کہ خشک سالی نے لوگوں کو کن مشکلات میں پھنسا دیا ہے۔ بھوک حد سے گزر چکی ہے، اللہ تعالیٰ بھی اب ہماری فریاد نہیں سنتا، نہ ہی بارش برساتا ہے۔‘‘

میں نے جواب میں کہا: ’’یہ ساری باتیں تو مفلوک الحال لوگوں کے بارے میں ہیں، لیکن تُو خوشحال اور تونگر ہے، جب تیرے پاس مال کا تریاق موجود ہے تو قحط سالی کے زہر سے تیرا کیا واسطہ! جیسے سیلاب آجائے تو بطخ کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا نہ وہ پریشان ہوتی ہے کیونکہ اسے تیرنا آتا ہے۔‘‘

میری بات سن کر وہ مجھے اس طرح حقارت سے دیکھنے لگا جیسے کسی عالم کو جاہل سے واسطہ پڑ گیا ہو۔ پھر کہنے لگا: ’’آدمی تو وہ ہے جو دوسروں کی تکلیف دیکھ کر بے تاب ہوجائے، اگر دوست ڈوب رہا ہو تو اس دوست کو کیسے قرار آسکتا ہے جو کنارے پر کھڑا ہو! میرا چہرہ جو تجھے زرد نظر آرہا ہے وہ میری اپنی بھوک کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ دوسرے بھوکوں کے احساس کی وجہ سے ہے۔‘‘

Terrible famine

(حکایت سعدی سے انتخاب)

Enhanced by Zemanta

Wednesday, March 12, 2014

Islamic eating manners

 Islamic eating manners

 حضرت سلیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے سے کھانے میں برکت ہوجاتی ہے ۔ میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا:’’کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونے سے کھانے میں برکت ہوجاتی ہے۔ (ابو دائود ،ترمذی )

٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس شخص نے رات اس حالت میں بسر کی کہ اس کے ہاتھ پر چکناہٹ تھی(یعنی کھانے کے بعد ہاتھ نہیں دھوئے)اگر وہ چکنائی اس کے جسم پر لگ گئی تو وہ کسی اور کو ملامت نہ کرے ۔ (ابودائو د ، ترمذی ،بخاری فی ادبِ المفرد)

٭حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوشِ جاں کیا اور کلی فرمائی اور ساتھ ہی فرمایا کہ دودھ کی چکناہٹ ہوتی ہے ۔(صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

٭حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا کہ جب انسان اپنے گھر میں داخلے کے وقت اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے تو شیطان اپنے چیلوں سے کہتا ہے ، اس گھر میں تمھارے لیے رات بسرکرنے اور شام کے کھانے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان ان سے کہتا ہے۔ اس گھر میں تمھیں شب ِ بسر ی اور کھانا دونوں ہی میسر ہیں ۔ (ابودائود ، ترمذی ،مستدرک )

٭حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھارہا تھا اور میر ا ہاتھ کھانے کے پیالے میں اِدھر اُدھر چل رہا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا :اے نوجوان! بسم اللہ پڑھ، اپنے دائیں ہاتھ سے کھا، اور اپنے قریب والی جگہ سے کھانالے۔(مسلم، ابن ماجہ ،موطاامام مالک

٭حضرت عکراش بن ذوئب رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شوربے میں چُوری کی ہوئی روٹی کی ہنڈیا پیش کی گئی ۔ہم بھی اس میں سے کھانے لگے ۔ میں اس ہنڈیا کے ہر طرف ہاتھ چلانے لگا ۔ آپ نے (یہ دیکھ کر)ارشاد فرمایا : اے عکراش ! ایک جگہ سے کھائو، کیونکہ یہ ایک ہی قسم کاکھانا ہے ۔اس کے بعد ایک بڑاتھال حاضر کیاگیا جس میں کئی اقسام کی کھجوریں تھیں ۔ اب آپ نے ارشاد فرمایا ، اے عکراش! اب جہاں سے مرضی کھائو کیونکہ یہ ایک قسم کا کھانا نہیں ہے۔(مسلم،دارمی ،موطاامام مالک

 حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھ اصحاب کے ساتھ کھا نا تناول فرمارہے تھے کہ ایک اعرابی آگیا ۔ اس نے بھی دولقمے کھائے تو آپ نے فرمایا ، اگر یہ اللہ کا نام لے لیتا تو یہ کھانا تمہیں کافی ہوجاتا ۔ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور وہ ابتداء میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یوں کہہ لیا کرے بسم اللہ اَوّلُہٗ وَآخِرُہٗ۔(ابودائود ، ترمذی )

٭حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں ثرید (شوربے میں چُوری ہوئی روٹی) کا پیالہ پیش کیاگیا تو آپ نے فرمایا اس کے اطراف سے کھانا شروع کرو، درمیان سے نہیں، کیونکہ اس کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے ۔(ترمذی ، ابودائو د ، مسند احمد)

٭حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر رغبت ہوئی تو تناول فرمالیا ورنہ چھوڑ دیا۔ (بخاری ،ابن ماجہ ، مسند امام احمد بن حنبل )

٭حضرت ابو قبیصہ بن بلب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا میر ا دل بعض کھانوں سے حرج اور تنگی محسوس کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا :تیرے دل میں کوئی چیز وسوسہ پیدانہ کرے ، جس سے نصرانیت کی بوآتی ہو۔(ابودائود ،مسنداحمد )

٭حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ۔ آپ نے انہیں روٹی اورسرکہ پیش کیااور فرمایا کھائو،میں نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا ہے کہ سرکہ بہت عمدہ سالن ہے ۔ اس شخص کے لیے تباہی ہے کہ اس کے گھر میں اس کے بھائی آئیں اور وہ گھرمیں موجود سامانِ خوردونوش انہیں پیش کرنے میں حقیر سمجھے یوں ہی ان لوگوں کے لیے بھی بربادی ہے جو پیش کردہ رزق کو حقیر اور کم مرتبہ جانیں۔(مسلم ، ترمذی )

٭حضرت اسماء بنتِ ابو بکر رضی اللہ عنہما جب ثرید تیار کرتیں تو اسے کسی چیز سے ڈھانپ دیتیں یہاں تک کہ اس کا جوش اور تیزی ختم ہوجاتی پھر فرماتیں کہ میں نے جنا بِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسے کھانے میں برکت زیادہ ہوتی ہے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بھی یہی ہے کہ کھانے کا جوش ختم ہونے کے بعد تنا ول کرنا چاہیے ۔ (مسند احمد )

٭حضرت ابو جحیقہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔(بخاری)

Enhanced by Zemanta