Saturday, February 21, 2015

اَوقاتِ نماز مع مکروہ اَوقاتِ نماز

اَوقاتِ نماز مع مکروہ اَوقاتِ نماز
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر دن رات میں پانچ وقت نماز فرض کی ہے اور اسی طرح ہر نماز کو بھی اس کے وقت پر پڑھنے کا حکم فرمایا جیساکہ اس کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتـٰبًا مَوقوتًا ١٠٣ ﴾....سورة النساء:
''بے شک مؤمنوں پر نماز مقرر ہ وقت میں فرض کی گئی ہے۔''
پانچوں نمازوں کا ابتدائی وقت
٭سیدنا جابر بن عبداللہ ﷜ فرماتے ہیں:
«فصلی الظهر حين زالت الشمس وکان الفيء قدر الشراك ثم صلی العصر حين کان الفيء قدر الشراك وظِلِّ الرجل ثم صلی المغرب حين غابت الشمس ثم صلی العشاء حين غاب الشفق ثم صلی الفجر حين طلع الفجر»(سنن نسائی :۵۲۵)
''آپؐ نے ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد جبکہ زوال کا سایہ جو تے کے تسمے کے برابر تھا، اس وقت پڑھائی۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال کا سایہ تسمے اور آدمی کے برابر ہوگیا۔ پھر مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہوگیا پھر عشا کی نماز سرخی غائب ہوجانے پر پڑھائی پھر جب فجر طلو ع ہوئی تو فجر کی نماز پڑھائی۔''
مندرجہ بالا حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ
ظہر: جب جوتے کے تسمہ کے برابر زوال کا سایہ پہنچ جائے
عصر: جب آدمی کے برابر سایہ پہنچ جائے
مغرب: سورج غروب ہونے پر
عشاء: سرخی غائب ہونے پر
فجر: طلوعِ فجر سے
پانچوں نمازوں کا اوّل و آخر وقت
٭سیدنا ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«إنَّ للصلاة أوّلاً وآخرًا وإن أوّل وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس وآخر وقت حين يدخل وقت العصر وإن أوّل وقت صلاة العصر حين يدخل وقتها وإن آخر وقتها حين تصفر الشمس وإن أوّل وقت المغرب حين تغرب الشمس وإنَّ آخر وقتها حين يغيب الشفق وإنَّ أوّل وقت العشاء الآخرة حين يغيب الأفق،وإنَّ آخر وقتها حين ينتصف الليل، وإنَّ أوّل وقت الفجر حين يطلع الفجر وإنَّ آخر وقتها حين تطلع الشمس» (سنن ترمذی:۱۵۱)
''بے شک ہر نماز کے لئے اوّل اور آخری وقت ہے۔ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت جب سورج ڈھل جائے اور آخری وقت جب نمازِ عصر کا وقت شروع ہو۔ عصر کی نماز کا اوّل وقت وہی ہے جب یہ اپنے وقت میں داخل ہوجائے اور آخری وقت جب سورج زرد ہوجائے۔ مغرب کی نماز کا اوّل وقت جب سورج غروب ہوجائے اور آخری جب سرخی غائب ہوجائے۔ عشاء کا اوّل وقت جب سرخی غائب ہوجائے اور آخری وقت جب آدھی رات گزر جائے۔''
٭ سیدنا عبد اللہ بن عباس﷜ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل ؑ نے کعبہ کے پاس دو مرتبہ نماز میں میری امامت کی:
«فصلی الظهر في الأولی منهما حين کان الفيء مثل الشراك،ثم صلی العصر حين کان کل شيء مثل ظله، ثم صلی المغرب حين وجبت الشمس وأفطر الصائم، ثم صلی العشاء حين غاب الشفق ثم صلی الفجر حين برق الفجر وحرم الطعام علی الصائم وصلی المرة الثانية الظهر حين کان ظل کل شيء مثله لوقت العصر بالأمس ثم صلی العصر حين کان ظل کل شيء مثليه،ثم صلی المغرب لوقته الأول،ثم صلی العشاء الآخرة حين ذهب ثلث الليل،ثم صلی الصبح حين أسفرت الأرض ثم التفت إليّ جبريل فقال: يا محمد! هذا وقت الأنبياء من قبلك والوقت فيما بين هذين الوقتين» (سنن ترمذی :۱۴۹)
''پس اُنہوں نے ظہر کی نماز پہلی مرتبہ جب زوالِ فئ کا سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہوا تب پڑھائی۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مساوی ہوگیا۔ پھر مغرب کی اس وقت جب سورج غروب ہوگیا اور روزہ دار نے روزہ کھول لیا۔ پھر شفق (سرخی) ختم ہونے پر عشا کی نماز پڑھائی، پھر عشا کی نماز اس وقت پڑھائی جب پو پھوٹ پڑی اور صائم پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ اور دوسری مرتبہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا۔ پھر عصر کی نمازجب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوا پڑھائی، پھر مغرب کی نماز اس کے اوّل وقت میں پڑھائی، پھر عشا کی نماز ثلث ِلیل کو پڑھی۔ پھر فجر کی نماز جب زمین روشن ہوگئی اس وقت پڑھی، پھر جبریل ؑ نے میری طرف توجہ کی اور بولے: اے محمد! یہ اوقات تجھ سے پہلے انبیا میں تھے اور (نماز) کا وقت ان دو اوقات کے درمیان میں ہے۔''
حاصل نکات
نماز ......۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔........اول وقت ............۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔......آخر وقت
(1)ظہر زوال کے فورا بعد ہرچیز کا سایہ ایک مثل ہو
(2)عصر ایک مثل سایہ ہو دو مثل سایہ ہو یاسورج زرد ہونے تک
(3)مغرب سورج غروب سرخی غائب ہونے تک
(4)عشاء سرخی غائب ہونے سے نصف یا ثلث لیل تک
(5)فجر طلوع فجر سورج طلوع تک
(6)جمعہ ظہر کا وقت ہی ہے
سفر میں ظہر کی نماز ٹھنڈا کرکے پڑھنا
سیدنا ابوذرغفاری﷜ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر پر تھے کہ مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی:
«فقال النبي﷜:(أبرد)ثم أراد أن يؤذن فقال له (أبرد) حتی رأينا فيء التلول فقال النبي !: (إن شدة الحر من فيح جهنم فإذا اشتد الحرفأبردوا بالصلاة)»(صحيح بخاری:۵۳۹)
''آپﷺنے فرمایا: ٹھنڈا کرو۔ پھر مؤذن نے ارادہ کیا کہ اذان کہے تو آپﷺ نے اسے پھر فرمایا کہ ٹھنڈا کرو یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا پھر آپﷺ نے فرمایا: بے شک گرمی کی شدت جہنم کے سانس میں سے ہے، پس جب گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔''
عشاء کی نماز میں تاخیر
عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔ آپﷺ نے اس کی ترغیب دلائی ہے۔ ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:«لولا أن أشق علی أمتی لأمرتهم أن يؤخِّروا العشاء إلی ثلث الليل أو نصفه» (سنن ترمذی:۱۶۷)
''اگر مجھے اپنی اُمت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں اُنہیں عشاء کی نماز ایک تہائی یا آدھی رات تک مؤخر کرنے کا حکم کرتا۔''
سیدناعبداللہ بن عمر﷜ سے روایت ہے:
«مَکَثنا ذات ليلة ننتظر رسول اﷲ لصلاة العشاء الآخرة، فخرج إلينا حين ذهب ثلث الليل أو بعده،فلا ندري أشيء شغله في أهله أو غير ذلك فقال حين خرج: (إنکم لتنتظرون صلاة ما ينتظرها أهل دين غيرکم ولولا أن يثقل علی أمتي لصليت بهم هذة الساعة) ثم أمر المؤذن فأقام الصلاة وصلی» ( صحيح مسلم:۶۳۹)
''ایک رات ہم نبی ﷺکے پاس تھے اور آپﷺ عشاء کی نماز کے لئے انتظار کررہے تھے پس وہ ہماری طرف اس وقت آئے جب رات آدھی یا اس سے کچھ زیادہ ہوچکی تھی۔ نامعلوم آپ اپنے گھر والوں میں مصروف تھے یا کچھ اور کررہے تھے۔ جب آپﷺ نکلے تو فرمایا:بے شک تم اس نماز کا انتظار کررہے ہو جس کا دیگر اَدیان کے حاملین انتظار کرتے ہیں۔اور اگر میں اپنی اُمت پربھاری نہ سمجھتا تومیں ان کو اس وقت نماز پڑھاتا ۔ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔''
٭ مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ عشا کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے جبکہ باقی نمازوں کا اپنے اوّل وقت میں پڑھنا ہی افضل ہے جیسا کہ عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے افضل عمل کے متعلق پوچھا تو فرمایا: (الصلاة في أوّل وقتها) ''اول وقت میں نماز پڑھنا'' (صحیح ابن خزیمہ:۳۲۷،الموارد:۲۸۰)
عصرکا وقت معلوم کرنے کا طریقہ
نمازوں کے اوقات کے لئے سایے کی پیمائش میں عام لوگ عموماً غلطی کھا جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یاد رہے کہ سائے کی پیمائش میں زوال کا اصل سایہ شامل نہیں کیا جائے گا، جو مختلف علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ سائے کی پیمائش کے دو طریقے ہیں:
پہلا طریقہ:
ایک لکڑی لے کرزوال سے تھوڑی دیر پہلے سپاٹ زمین پر گاڑ دیں۔ سایہ گھٹ رہا ہوگا،گھٹتے گھٹتے جب ایک جگہ رک جائے(جس کے کچھ دیر بعد سایہ بڑھنا شروع ہوگا) تو یہی زوال کا وقت ہے جو چند ثانیے تک رہتا ہے۔ یہاں رکے ہوئے سایہ کی پیمائش کرلیں۔ پھرجب سایہ لکڑی کے برابر ہوجائے تو پیمائش کئے ہوئے فاصلے کو لکڑی کے برابر آئے ہوئے سایہ سے ملا کر نشان لگا لیں، اب جب سایہ اس نشان پر پہنچے گا تو یہ ظہر کا آخری اور عصر کا اوّل وقت ہوگا اور ایک مثل ہوگا۔
دوسرا طریقہ :
لکڑی کو گاڑ دیا جائے اور زوال کا سایہ جب رُک جائے تو اس لکڑی کو نکال کر سایہ کی اِنتہا پر گاڑ دیا جائے ۔ پھر جب سایہ بڑھنا شروع ہو اور لکڑی کے مثل ہوجائے تو یہی عصر کا اوّل وقت ہے۔
نماز کے مکروہ اَوقات اورمقامات
مکروہ اَوقات
٭ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی﷜ سے روایت ہے کہ
«ثلاث ساعات کان رسول اﷲ! ينهانا أن نصلي فيهن،أو أن نقبِّر فيهن موتانا،حين تطلع الشمس بازغة حتی ترتفع،وحين يقوم قائم الظهيرة حتی تميل الشمس،وحين تضيّف الشمس للغروب حتی تغرب»( صحيح مسلم:۸۳۱)
''نبیﷺ نے ہمیں تین اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: جب سورج طلوع ہو رہا ہویہاں تک کہ بلندہوجائے۔جب سورج نصف آسمان پر ہویہاں تک کہ وہ ڈھل جائے (یعنی عین زوال کا وقت) اور جس وقت سورج غروب ہونا شروع ہوجائے۔''
٭سیدنا ابوہریرہ﷜سے روایت ہے کہ
«نهٰی رسول اﷲ! عن صلاتين: بعد الفجر حتی تطلع الشمس، وبعد العصر حتی تغرب الشمس» (صحيح بخاری:۵۸۸)
''رسول اللہﷺ نے دو (وقتوں میں) نمازوں سے منع فرمایا۔ فجر (کی نماز) کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور عصر (کی نماز کے) بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔''
لہٰذانماز کے لیے مکروہ اوقات یہ ہوئے :
(1) نمازِ فجر کے بعد سے جب تک سورج اچھی طرح نکل نہ آئے۔
(2) زوال کے وقت
(3) عصر کی نماز کے بعد سے سورج جب تک غروب نہ ہوجائے۔
٭ اگر کسی کی صبح کی سنتیں رہ گئی ہوں تو صرف اس کے لئے اجازت ہے کہ وہ پڑھ لے جیساکہ قیسؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے فجر کی نماز کے بعد نما زپڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا «مهلا يا قيس أصلاتان معًا» اے ابو قیس! ٹھہر جا، کیا تو دو نمازیں پڑھ رہا ہے؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ!صبح کی دو سنتیں مجھ سے رہ گئی تھیں آپ نے فرمایا: (فلا إذن) ''تب اِجازت ہے۔'' (سنن ترمذی:۴۲۲)
٭ اسی طرح اگر نماز پڑھتے پڑھتے فجر اور عصر کے وقت سورج طلوع اور غروب ہوگیا اس کی باقی نمازدرست ہوگی۔ سیدناابوہریرہ﷜ سے روایت ہے آپﷺ نے فرمایا:«من أدرک من العصر رکعة قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك ومن أدرك من الفجر رکعة قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك» (صحيح مسلم:۶۰۹)
''جس نے عصر کی نماز میں سے سورج غروب ہونے سے ایک رکعت بھی پالی اس نے نماز پالی اور جس نے فجر کی نما زمیں سے سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک رکعت بھی پالی اس نے نماز پالی۔''
٭یاد رہے کہ مسجد ِحرام ان ممنوعہ اوقات سے مستثنیٰ ہے۔ اس میں دن رات کی کسی بھی گھڑی میں نمازاور کوئی دوسری عبادت کی جاسکتی ہے۔سیدنا جبیر بن مطعم﷜ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:
«يا بني عبد مناف! لا تمنعوا أحدًا طاف بهذا البيت وصلی اَيّة ساعة شاء من ليل أو نهار» ( سنن ترمذی:۸۶۸ وسنن نسائی:۵۸۶ )
''اے بنی عبد ِمناف! کسی کو بیت اللہ کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو خواہ وہ رات دن کی کسی گھڑی میں بھی (یہ عبادت) کررہا ہو۔''
مکروہ مقامات
قبرستان اور حمام: قبرستان اور حمام میں نبی ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے:
سیدنا ابوسعید خدری ﷜سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:«الأرض کلها مسجد إلا الحمام والمقبرة» ( سنن ابوداود:۴۹۲ )
''حمام اور قبرستان کے علاوہ ساری زمین پرسجدہ کیا جاسکتا ہے۔''
اونٹوں کے باڑے میں: اونٹوں کے باڑ ے میں نماز پڑھنا منع ہے۔
سیدنابراء بن عازب﷜ کہتے ہیں کہ نبی ﷺسے اونٹوں کے باڑا میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا:
«لا تُصَلُّوا في مَبَارك الإبل» (سنن ابوداود:۴۹۳ )
''اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔''

حرام مال سے بچنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جس میں آدمی اِس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ اُس نے جو مال حاصل کیا ہے وہ حلال ہے یا حرام۔‘‘
اپنے معنیٰ اور مفہوم کے اعتبار سے یہ حدیث مبارکہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیوں کہ اِس میں ایک ایسے زمانے کی پیش گوئی کی جارہی ہے جسے آج دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ اِس سے احادیثِ کریمہ کی صداقت و حقانیت کا بھی پتا چلتا ہے کہ جن معاملات کے ہونے کی پیش گوئی صدیوں پہلے کردی گئی، وہ معاملات صبحِ روشن کی طرح عیاں ہورہے ہیں۔

موجودہ دور میں ہر کوئی زیادہ سے زیادہ کمانے کی ہوس میں مبتلا ہے۔ جو جتنی جلدی اور جس قدر زیادہ مال حاصل کرلے، وہ دنیا والوں کے نظر میں اُتنا عقل مند اور فہم و فراست والا کہلاتا ہے۔ اِس سے کو ئی غرض نہیں کہ جو مال وہ حاصل کررہا ہے،وہ حلال ہے یا حرام۔ اُسے تو صرف اپنی خواہش کی تکمیل کرنی ہے، اپنے مال میں اضافہ کرنا ہے اور اپنی جھوٹی اَنا کی تسکین کرنی ہے۔ قرآنِ مجید نے انسان کی اِس سوچ کو ’’ ھَل مِنْ مَّزِیْدٍ‘‘ سے تعبیر کیا اور اِس حقیقت کو سورۂ تکاثر کی ابتدائی آیاتِ کریمہ میں یوں میں بیان فرمایا کہ ’’ تم کو زیادہ مال جمع کرنے کی حرص نے غافل کردیا، حتیٰ کہ تم (مر کر) قبروں میں پہنچ گئے۔‘‘

ذہن میں رہے کہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ ’’ ابنِ آدم کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا، اِسے اگر ایک وادی سونے کی دے دی جائے تو وہ ایک اور وادی کی خواہش کرے گا۔‘‘ لہٰذا اِس بُری خصلت سے چھٹکارے کی ایک ہی صورت ہے، جسے نبی اکرمؐؐ نے بیان فرمایا ہے کہ ’’ اُن لوگوں کو دیکھو جو تم سے کم تر ہیں اور اُن لوگوں کو مت دیکھو، جو (مال و دولت ) میں تم سے اعلیٰ ہیں۔ اِس طرح کرنے سے تم میں اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرنے کا جذبہ بڑھے گا۔‘‘ (بلوغ المر آم: ص 313

نبی اکرم ؐ کا زمانہ مبارک ایسا تھا کہ اُس میں مسلمان انتہائی محتاط انداز میں مال لیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اگر کسی چیز کے بارے میں شک ہوجاتا کہ یہ اُن کے لیے حلال نہیں تو اُس سے بچتے اور حلال کے لیے تگ و دو کیا کرتے تھے۔ ایسی کئی روایات ملتی ہیں کہ رسول اکرمؐؐ نے مشکوک ہونے کی وجہ سے کسی چیز کو تناول نہیں فرمایا۔ آپؐ نے اُمت کو بھی یہی تعلیم دی کہ نہ صرف حرام سے بچو بلکہ اُن اشیاء سے بھی بچو کہ جن کے بارے میں شک ہوجائے کہ وہ حلال ہیں یا حرام؟ حدیث مبارک میں ہے کہ ’’کوئی بندہ اُس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک وہ ناپسندیدہ اور قبیح چیزوں کو نہ چھوڑ دے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور اُس زمانے کے مسلمان اِس سوچ کے ساتھ زندگی گزارتے تھے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے، حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے، کس کام میں اُن کے لیے دنیاوی اور اُخروی فوائد ہیں اور کس میں نہیں ؟ لیکن وقت گزرتا گیا اور آہستہ آہستہ لوگوں میں حلال و حرام کی تمیز ختم ہو تی گئی اور اب حدیثِ مبارکہ میں کی گئی پیش گوئی کے مطابق معاملات نظر آرہے ہیں۔

اِسلام چوں کہ دینِ فطرت ہے لہٰذا اِس کے دیے ہوئے تمام اُصول اِنسان کی ضرورت اور فطرت کے عین مطابق ہیں اور اِسی میں انسانیت کی بقا و کام یابی کا راز مضمر ہے۔ لہٰذا جب اِس نے کسی شے کو حلال قرار دیا تو اُس میں یقینی طور پر انسانوں کے لیے فوائد ہیں اور جن اشیاء کو حرام قرار دیا تو اُس میں یقینًا نقصان موجود ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن اشیاء کو حرام قرار دیا ہے، اُن کی تعداد حلال کے مقابلے میں بہت کم ہے ،یعنی زیادہ تر اشیاء حلال ہیں۔ اِسی طرح جن اشیاء کو حرام قرار دیا اُن کے بہتر متبادل بھی دیے۔ مثلًا سود کو حرام قرار دیا تو اِس کے بدلے میں تجارت، صنعت و حرفت، کاشت کاری اور شراکت و مضاربت جائز قرار دیا اور شراب کو حرام قرار دے کر انواع و اقسام کے مشروبات پینے کی اِجازت مرحمت فرما دی۔ لہٰذا جب تک انسان اِس فرق کو سمجھتے ہوئے مال و دولت حاصل کرتا رہتا ہے تو اِس سے نہ صرف دنیاوی اعتبار سے اُسے فائدہ پہنچتا ہے بلکہ اُخروی کام یابی بھی اُس کے لیے مقدر کردی جاتی ہے۔

حرام مال سے بچنا اُس وقت تک ممکن نہیں، جب تک کہ یہ معلوم نہ ہوکہ کون کون سی اشیاء حرام ہیں اور کن ذرائع سے روزی حاصل کرنا حلال اور کن سے حرام ہے؟ یہ ذمہ داری نہ صرف تاجر حضرات پر ہے بلکہ زراعت، صنعت و حرفت، وکالت اور محنت مزدوری کرنے والے تمام افراد پر ہے۔ تاجروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ دورانِ تجارت جھوٹ، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، سود، رشوت اور دیگر غیر شرعی اُمور سے اجتناب کریں تاکہ اُن کے منافع میں حرام مال شامل نہ ہو۔ کسان، ماہرینِ صنعت، وکلاء اور مزدوروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے کام کو بہتر انداز میں امانت و صداقت کے معیار کے مطابق انجام دیں۔

حرام سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کریں ،کیوں کہ حرام کی نحوست اِس قدر تباہ کن اور اثر انگیز ہے کہ اِس سے حلال مال بھی تباہ و برباد ہوجاتاہے، یعنی اُس حلال مال سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔ یہ تو دنیاوی نقصان ہے، آخرت کا نقصان حدیث مبارکہ کی رو سے یہ ہے کہ ’’ وہ گوشت جو مالِ حرام سے پروان چڑھے، وہ جنت میں نہیں جائے گا بلکہ وہ جہنم کا زیادہ مستحق ہے۔‘‘ اِسی طرح جو لوگ حرام سے بچتے ہیں، تو اُن کے لیے حدیثِ مبارکہ میں خوش خبری دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں اپنے عبادت گزار بندوں میں شمار فرما لے گا۔ لہٰذا حرام اشیاء سے بچو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے عبادت گزار شمار ہوگے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے رزق کا جو حصہ مقرر فرمایا دیا ہے اِس پر خوش رہو، تو لوگوں میں غنی بن جاؤ گے۔

Tuesday, February 10, 2015

آئندہ 20 سالوں میں اسلام یورپ کا سب سے بڑا مذہب ہوگا.....

بین الاقوامی سروے کے مطابق یورپ میں اس وقت 52 ملین مسلمان آباد ہیں جن کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تعداد 104 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔

 پی ای ڈبلیو کے مطابق 2030ء تک مسلمانوں کی تعداد 2 ارب 20 کروڑ تک جا پہنچے گی۔ 2020ء تک برطانیہ کا نمایاں مذہب اسلام ہو گا۔ جرمنی کی حکومت نے پہلی بار اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ جرمنی میں مقامی آبادی کی گرتی ہوئی شرح پیدائش اور مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی شرح پیدائش کو روکنا ممکن نہیں لیکن اگر صورتحال یہی رہی تو 2050ء تک جرمنی مسلم اکثریت کا ملک بن جائے گا۔ یورپ میں مقامی آبادی کا تناسب کم ہونے کی ایک وجہ وہاں کے لوگوں کا شادی نہ کرنا اور بچوں کی ذمہ داری نہ لینا ہے جبکہ یورپ میں مقیم مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق 2050ء تک یورپ کے کئی ممالک میں 60 سال سے زائد عمر کے مقامی افراد مجموعی آبادی کا 75 فیصد تک ہو جائیں گے اور اس طرح بچوں اور نوجوان نسل کا تناسب کم رہ جائے گا جبکہ مسلمانوں کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں اسلام تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق 2001ء سے 2006ء تک کینیڈا کی آبادی میں 6.1 ملین افراد کا اضافہ ہو چکا ہے جن میں سے 2.1 ملین مسلمان ہیں۔

 امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور آئندہ 30 سالوں میں 5 کروڑ مسلمان امریکی ہوں گے۔ پی ای ڈبلیو کے مطابق دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ مسلمان انڈونیشیا میں آباد ہیں مگر 20 سالوں میں یہ اعزاز پاکستان کو حاصل ہو جائے گا جبکہ بھارت مسلم آبادی کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن جائے گا۔

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...