Sunday, March 22, 2015

حقیقی مفلس کون؟....


حقیقی مفلس کون؟؟؟؟؟؟؟؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا

میری امت میں تو مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز ڈھیر ساری نمازیں، روزے اور زکوتیں لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس حال میں آئےگا کہ کسی کو گالی دی، کسی پہ تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، کسی کو مارا۔ پس (ان مظالم کے قصاص میں) اس دعوے دار کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ اگر حساب پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں، تو ان (دعوے داروں) کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور پھر وہ سر کے بل آگ میں ڈال دیا جائےگا۔

جس نے اپنے بھائی پر کوئی ظلم کیا ہو۔ عزت کے معاملہ میں یا کسی بھی چیز کے بارے میں۔ وہ آج کے دن ہی اس سے معاف کرا لے، اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہوں نہ درہم (کیونکہ اس دن) جتنا ظلم اس نے کیا، اتنی اس کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر لاد دی جائیں گی۔

(بخاری و مسلم )


Saturday, March 21, 2015

فرض نمازوں کے بعد کے مسنون اذکار

فرض نمازوں کے بعد کے مسنون اذکار
اَللہُ اَکبَر (بخاری:۴۸۲، مسلم ۵۸۳) (تھوڑا بلند آواز کے ساتھ)
''اللہ سب سے بڑا ہے''۔
استغفراللہ (۳ مرتبہ)
''میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں''۔اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامْ وَمِنْکَ السَّلَامْ تَبَارَکْتَ یَاذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرامِ(مسلم:۵۹۱)''اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی ہے۔ اے بندگی اور عزت والے تو بڑی برکت والا ہے''۔رب اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک (سنن ابی داؤد: ۱۵۲۲)''اے اللہ! تو اپنی یاد پر میری مدد فرما اور اپنے شکر پر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت بجا لانے پر''۔اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ (بخاری:۸۴۴)''اے اللہ! اُس چیز کو کوئی روکنے والا نہیں جو تو عطا کرے اور جس چیز کو تو روک لے اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحبِ حیثیت کو اُس کی حثیت تیرے ہاں فائدہ نہیں دے سکتی''۔''لَا اِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ ،لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ لَا اِلٰہَ إِلَّا االلہُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللہُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ'' (مسلم:۵۹۴)''اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ کی توفیق ہی سے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں۔ اسی کی طرف سے انعام ہے اور اسی کی طرف سے فضل اور اسی کے لیے بہترین ثناء ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اُس کے لیے بندگی کو خالص کرنے والے ہیں، خواہ کافر (اُسے) ناگوار سمجھے''۔سبحان اللہ (۳۳ مرتبہ) الحمدللہ (۳۳ مرتبہ) اللہ اکبر (۳۳ مرتبہ)''اللہ پاک ہے''۔ ''سب تعریفیں اللہ کے لیے''۔ ''اللہ بہتر بڑا ہے''۔''لَا اِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ ،لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ'' (ترمذی:۳۴۷۴) (نماز فجر اور نماز مغرب کے بعد ۱۰ مرتبہ)''اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے''۔''اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا'' (فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھیں)''اے اللہ! بے شک میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا/کرتی ہوں اور پاکیزہ زرق کا اور ایسے عمل کا جو قبول کر لیا جائے''۔سورۃ الاخلاص، سورۃالفلق، سورۃ الناس (سنن ابی داؤد)فجر اور مغرب کی نماز کے بعد ۳،۳ مرتبہباقی نمازوں کے بعد ایک ایک مرتبہآیت الکرسی (سورۃ البقرہ:۲۵۵)فرض نمازوں کے بعد نبی کریمﷺ یہ اذکار اور دعائیں پڑھا کرتے تھے ۔ نبی کریمﷺ کی سنت پر عمل کرنا لازمی اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ نماز کے بعد نمازی جتنی دیر اسی جگہ بیٹھا رہے گا اللہ کے فرشتے اس کے لیے رحمت و مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔

Sunday, March 8, 2015

Quba — the first mosque in the history of Islam



Quba Mosque to the south of Madinah is the second largest and prestigious mosque in the city after the Prophet’s Mosque, but claims the first place owing to its importance in Islamic history having been built in the first year of the Islamic calendar. Quba Mosque witnesses an influx of worshippers and visitors throughout the year, but the numbers have increased these days owing to the holy month of Ramadan. Large gatherings can be observed in the mosque’s precincts especially in the early hours of the morning.

Author Sapphire Hamwi said in his book (Lexicon countries) that Quba Mosque was originally a well surrounded by a village named after it. It was inhabited by the tribe of Bani Amr bin Auf. On his way to Madinah, the Prophet Muhammad (peace be upon him) visited the home of Bani Amr Bin Auf and built a mosque in the area which he named Quba.

Historical references indicate that the Prophet (PBUH) and his Companions (may Allah be pleased with them) built the mosque to the Southwest of Madinah, three km away from the Prophet’s Mosque in the first year of the Hijri or Islamic calendar. The mosque contained a well which belonged to Abu Ayyub Al-Ansari (may Allah be pleased with him). It became a blessed place as the Prophet’s she-camel first knelt down there to take a long draught of water after the Prophet’s journey. The prestigious and unique characteristics of Quba Mosque compared to other mosques are cited in this Hadith narrated by the Prophet (peace be upon him): “Whoever makes ablutions in this house and offers one prayer therein, will be rewarded the equivalent of one Umrah.”

The Prophet (peace be upon him) made it a habit to come to Quba Mosque every Saturday, either riding his camel or on foot and offer two rak’at prayers.“The Prophet (peace be upon him) used to go to Quba Mosque sometimes walking, sometimes riding,” narrated by Ibn Umar, and in another narration: “He would then offer two Rak’at”. ‘Abdullah (Ibn ‘Umar) used to do the same.

In the past centuries, Muslims have accorded Quba Mosque much attention. It was renovated by a number of caliphs of the period. The third Caliph Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with him) made the first renovations. Caliph Omar bin Abdul Aziz built the mosque’s first minaret. It was renovated again in 435 AH by Abu Yali Al-Husaini who constructed a prayer niche known as the “Mihrab.”

In the year 555 AH, several additions were made to the mosque by Kamal Al-Din Al-Isfahani. Successive renovations of the mosque took place in the years 671, 733, 840, 881 AH, and the latest changes were made in the era of Sultan Abdul Majid in the year 1245 AH during the time of the Ottoman Empire. In modern times, the Saudi regime has taken charge of the mosque by endowing the responsibility to the Ministry of Haj Affairs which made further renovations and added structures to the original design. 

The modern day Quba Mosque is an architectural feat equipped with the latest facilities while maintaining its Islamic identity. The mosque has been expanded to accommodate more than 20 thousand worshipers. In 1984, the late King Fahd bin Abdulaziz laid the foundation stone for the historic expansion of the Quba Mosque. Two years later, he inaugurated the opening of the mosque after its expansion.

The Mosque was designed with an inner courtyard with several entrances. The northern section was reserved for women worshippers. The mosque now has four minarets and 56 domes and adjoined to it is the residence of Imams and muezzins, a library, lodging for the guards in an area of 112 sq. meters, and a commercial center with 12 shops covering an area of 450 sq. meters. The mosque has 7 main entrances and 12 subsidiary ones.

The mosque has 64 toilets for men and 32 toilets for women, and 42 units for ablution. The mosque is cooled by three central units each with a capacity of one million and eighty thousand thermal units. Quba Mosque is a unique landmark and its white building can be clearly seen from a distance.

Saturday, February 21, 2015

اَوقاتِ نماز مع مکروہ اَوقاتِ نماز

اَوقاتِ نماز مع مکروہ اَوقاتِ نماز
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر دن رات میں پانچ وقت نماز فرض کی ہے اور اسی طرح ہر نماز کو بھی اس کے وقت پر پڑھنے کا حکم فرمایا جیساکہ اس کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتـٰبًا مَوقوتًا ١٠٣ ﴾....سورة النساء:
''بے شک مؤمنوں پر نماز مقرر ہ وقت میں فرض کی گئی ہے۔''
پانچوں نمازوں کا ابتدائی وقت
٭سیدنا جابر بن عبداللہ ﷜ فرماتے ہیں:
«فصلی الظهر حين زالت الشمس وکان الفيء قدر الشراك ثم صلی العصر حين کان الفيء قدر الشراك وظِلِّ الرجل ثم صلی المغرب حين غابت الشمس ثم صلی العشاء حين غاب الشفق ثم صلی الفجر حين طلع الفجر»(سنن نسائی :۵۲۵)
''آپؐ نے ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد جبکہ زوال کا سایہ جو تے کے تسمے کے برابر تھا، اس وقت پڑھائی۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال کا سایہ تسمے اور آدمی کے برابر ہوگیا۔ پھر مغرب کی نماز پڑھائی جس وقت سورج غروب ہوگیا پھر عشا کی نماز سرخی غائب ہوجانے پر پڑھائی پھر جب فجر طلو ع ہوئی تو فجر کی نماز پڑھائی۔''
مندرجہ بالا حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ
ظہر: جب جوتے کے تسمہ کے برابر زوال کا سایہ پہنچ جائے
عصر: جب آدمی کے برابر سایہ پہنچ جائے
مغرب: سورج غروب ہونے پر
عشاء: سرخی غائب ہونے پر
فجر: طلوعِ فجر سے
پانچوں نمازوں کا اوّل و آخر وقت
٭سیدنا ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«إنَّ للصلاة أوّلاً وآخرًا وإن أوّل وقت صلاة الظهر حين تزول الشمس وآخر وقت حين يدخل وقت العصر وإن أوّل وقت صلاة العصر حين يدخل وقتها وإن آخر وقتها حين تصفر الشمس وإن أوّل وقت المغرب حين تغرب الشمس وإنَّ آخر وقتها حين يغيب الشفق وإنَّ أوّل وقت العشاء الآخرة حين يغيب الأفق،وإنَّ آخر وقتها حين ينتصف الليل، وإنَّ أوّل وقت الفجر حين يطلع الفجر وإنَّ آخر وقتها حين تطلع الشمس» (سنن ترمذی:۱۵۱)
''بے شک ہر نماز کے لئے اوّل اور آخری وقت ہے۔ ظہر کی نماز کا ابتدائی وقت جب سورج ڈھل جائے اور آخری وقت جب نمازِ عصر کا وقت شروع ہو۔ عصر کی نماز کا اوّل وقت وہی ہے جب یہ اپنے وقت میں داخل ہوجائے اور آخری وقت جب سورج زرد ہوجائے۔ مغرب کی نماز کا اوّل وقت جب سورج غروب ہوجائے اور آخری جب سرخی غائب ہوجائے۔ عشاء کا اوّل وقت جب سرخی غائب ہوجائے اور آخری وقت جب آدھی رات گزر جائے۔''
٭ سیدنا عبد اللہ بن عباس﷜ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل ؑ نے کعبہ کے پاس دو مرتبہ نماز میں میری امامت کی:
«فصلی الظهر في الأولی منهما حين کان الفيء مثل الشراك،ثم صلی العصر حين کان کل شيء مثل ظله، ثم صلی المغرب حين وجبت الشمس وأفطر الصائم، ثم صلی العشاء حين غاب الشفق ثم صلی الفجر حين برق الفجر وحرم الطعام علی الصائم وصلی المرة الثانية الظهر حين کان ظل کل شيء مثله لوقت العصر بالأمس ثم صلی العصر حين کان ظل کل شيء مثليه،ثم صلی المغرب لوقته الأول،ثم صلی العشاء الآخرة حين ذهب ثلث الليل،ثم صلی الصبح حين أسفرت الأرض ثم التفت إليّ جبريل فقال: يا محمد! هذا وقت الأنبياء من قبلك والوقت فيما بين هذين الوقتين» (سنن ترمذی :۱۴۹)
''پس اُنہوں نے ظہر کی نماز پہلی مرتبہ جب زوالِ فئ کا سایہ جوتے کے تسمے کے برابر ہوا تب پڑھائی۔ پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مساوی ہوگیا۔ پھر مغرب کی اس وقت جب سورج غروب ہوگیا اور روزہ دار نے روزہ کھول لیا۔ پھر شفق (سرخی) ختم ہونے پر عشا کی نماز پڑھائی، پھر عشا کی نماز اس وقت پڑھائی جب پو پھوٹ پڑی اور صائم پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے۔ اور دوسری مرتبہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوگیا۔ پھر عصر کی نمازجب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوا پڑھائی، پھر مغرب کی نماز اس کے اوّل وقت میں پڑھائی، پھر عشا کی نماز ثلث ِلیل کو پڑھی۔ پھر فجر کی نماز جب زمین روشن ہوگئی اس وقت پڑھی، پھر جبریل ؑ نے میری طرف توجہ کی اور بولے: اے محمد! یہ اوقات تجھ سے پہلے انبیا میں تھے اور (نماز) کا وقت ان دو اوقات کے درمیان میں ہے۔''
حاصل نکات
نماز ......۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔........اول وقت ............۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔......آخر وقت
(1)ظہر زوال کے فورا بعد ہرچیز کا سایہ ایک مثل ہو
(2)عصر ایک مثل سایہ ہو دو مثل سایہ ہو یاسورج زرد ہونے تک
(3)مغرب سورج غروب سرخی غائب ہونے تک
(4)عشاء سرخی غائب ہونے سے نصف یا ثلث لیل تک
(5)فجر طلوع فجر سورج طلوع تک
(6)جمعہ ظہر کا وقت ہی ہے
سفر میں ظہر کی نماز ٹھنڈا کرکے پڑھنا
سیدنا ابوذرغفاری﷜ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ سفر پر تھے کہ مؤذن نے ظہر کی اذان کہنا چاہی:
«فقال النبي﷜:(أبرد)ثم أراد أن يؤذن فقال له (أبرد) حتی رأينا فيء التلول فقال النبي !: (إن شدة الحر من فيح جهنم فإذا اشتد الحرفأبردوا بالصلاة)»(صحيح بخاری:۵۳۹)
''آپﷺنے فرمایا: ٹھنڈا کرو۔ پھر مؤذن نے ارادہ کیا کہ اذان کہے تو آپﷺ نے اسے پھر فرمایا کہ ٹھنڈا کرو یہاں تک کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا پھر آپﷺ نے فرمایا: بے شک گرمی کی شدت جہنم کے سانس میں سے ہے، پس جب گرمی زیادہ ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔''
عشاء کی نماز میں تاخیر
عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے۔ آپﷺ نے اس کی ترغیب دلائی ہے۔ ابوہریرہ﷜ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:«لولا أن أشق علی أمتی لأمرتهم أن يؤخِّروا العشاء إلی ثلث الليل أو نصفه» (سنن ترمذی:۱۶۷)
''اگر مجھے اپنی اُمت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں اُنہیں عشاء کی نماز ایک تہائی یا آدھی رات تک مؤخر کرنے کا حکم کرتا۔''
سیدناعبداللہ بن عمر﷜ سے روایت ہے:
«مَکَثنا ذات ليلة ننتظر رسول اﷲ لصلاة العشاء الآخرة، فخرج إلينا حين ذهب ثلث الليل أو بعده،فلا ندري أشيء شغله في أهله أو غير ذلك فقال حين خرج: (إنکم لتنتظرون صلاة ما ينتظرها أهل دين غيرکم ولولا أن يثقل علی أمتي لصليت بهم هذة الساعة) ثم أمر المؤذن فأقام الصلاة وصلی» ( صحيح مسلم:۶۳۹)
''ایک رات ہم نبی ﷺکے پاس تھے اور آپﷺ عشاء کی نماز کے لئے انتظار کررہے تھے پس وہ ہماری طرف اس وقت آئے جب رات آدھی یا اس سے کچھ زیادہ ہوچکی تھی۔ نامعلوم آپ اپنے گھر والوں میں مصروف تھے یا کچھ اور کررہے تھے۔ جب آپﷺ نکلے تو فرمایا:بے شک تم اس نماز کا انتظار کررہے ہو جس کا دیگر اَدیان کے حاملین انتظار کرتے ہیں۔اور اگر میں اپنی اُمت پربھاری نہ سمجھتا تومیں ان کو اس وقت نماز پڑھاتا ۔ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔''
٭ مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ عشا کی نماز تاخیر سے پڑھنا افضل ہے جبکہ باقی نمازوں کا اپنے اوّل وقت میں پڑھنا ہی افضل ہے جیسا کہ عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے افضل عمل کے متعلق پوچھا تو فرمایا: (الصلاة في أوّل وقتها) ''اول وقت میں نماز پڑھنا'' (صحیح ابن خزیمہ:۳۲۷،الموارد:۲۸۰)
عصرکا وقت معلوم کرنے کا طریقہ
نمازوں کے اوقات کے لئے سایے کی پیمائش میں عام لوگ عموماً غلطی کھا جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یاد رہے کہ سائے کی پیمائش میں زوال کا اصل سایہ شامل نہیں کیا جائے گا، جو مختلف علاقوں کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ سائے کی پیمائش کے دو طریقے ہیں:
پہلا طریقہ:
ایک لکڑی لے کرزوال سے تھوڑی دیر پہلے سپاٹ زمین پر گاڑ دیں۔ سایہ گھٹ رہا ہوگا،گھٹتے گھٹتے جب ایک جگہ رک جائے(جس کے کچھ دیر بعد سایہ بڑھنا شروع ہوگا) تو یہی زوال کا وقت ہے جو چند ثانیے تک رہتا ہے۔ یہاں رکے ہوئے سایہ کی پیمائش کرلیں۔ پھرجب سایہ لکڑی کے برابر ہوجائے تو پیمائش کئے ہوئے فاصلے کو لکڑی کے برابر آئے ہوئے سایہ سے ملا کر نشان لگا لیں، اب جب سایہ اس نشان پر پہنچے گا تو یہ ظہر کا آخری اور عصر کا اوّل وقت ہوگا اور ایک مثل ہوگا۔
دوسرا طریقہ :
لکڑی کو گاڑ دیا جائے اور زوال کا سایہ جب رُک جائے تو اس لکڑی کو نکال کر سایہ کی اِنتہا پر گاڑ دیا جائے ۔ پھر جب سایہ بڑھنا شروع ہو اور لکڑی کے مثل ہوجائے تو یہی عصر کا اوّل وقت ہے۔
نماز کے مکروہ اَوقات اورمقامات
مکروہ اَوقات
٭ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی﷜ سے روایت ہے کہ
«ثلاث ساعات کان رسول اﷲ! ينهانا أن نصلي فيهن،أو أن نقبِّر فيهن موتانا،حين تطلع الشمس بازغة حتی ترتفع،وحين يقوم قائم الظهيرة حتی تميل الشمس،وحين تضيّف الشمس للغروب حتی تغرب»( صحيح مسلم:۸۳۱)
''نبیﷺ نے ہمیں تین اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: جب سورج طلوع ہو رہا ہویہاں تک کہ بلندہوجائے۔جب سورج نصف آسمان پر ہویہاں تک کہ وہ ڈھل جائے (یعنی عین زوال کا وقت) اور جس وقت سورج غروب ہونا شروع ہوجائے۔''
٭سیدنا ابوہریرہ﷜سے روایت ہے کہ
«نهٰی رسول اﷲ! عن صلاتين: بعد الفجر حتی تطلع الشمس، وبعد العصر حتی تغرب الشمس» (صحيح بخاری:۵۸۸)
''رسول اللہﷺ نے دو (وقتوں میں) نمازوں سے منع فرمایا۔ فجر (کی نماز) کے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور عصر (کی نماز کے) بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔''
لہٰذانماز کے لیے مکروہ اوقات یہ ہوئے :
(1) نمازِ فجر کے بعد سے جب تک سورج اچھی طرح نکل نہ آئے۔
(2) زوال کے وقت
(3) عصر کی نماز کے بعد سے سورج جب تک غروب نہ ہوجائے۔
٭ اگر کسی کی صبح کی سنتیں رہ گئی ہوں تو صرف اس کے لئے اجازت ہے کہ وہ پڑھ لے جیساکہ قیسؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے فجر کی نماز کے بعد نما زپڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا «مهلا يا قيس أصلاتان معًا» اے ابو قیس! ٹھہر جا، کیا تو دو نمازیں پڑھ رہا ہے؟ میں نے عرض کی: یارسول اللہﷺ!صبح کی دو سنتیں مجھ سے رہ گئی تھیں آپ نے فرمایا: (فلا إذن) ''تب اِجازت ہے۔'' (سنن ترمذی:۴۲۲)
٭ اسی طرح اگر نماز پڑھتے پڑھتے فجر اور عصر کے وقت سورج طلوع اور غروب ہوگیا اس کی باقی نمازدرست ہوگی۔ سیدناابوہریرہ﷜ سے روایت ہے آپﷺ نے فرمایا:«من أدرک من العصر رکعة قبل أن تغرب الشمس فقد أدرك ومن أدرك من الفجر رکعة قبل أن تطلع الشمس فقد أدرك» (صحيح مسلم:۶۰۹)
''جس نے عصر کی نماز میں سے سورج غروب ہونے سے ایک رکعت بھی پالی اس نے نماز پالی اور جس نے فجر کی نما زمیں سے سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک رکعت بھی پالی اس نے نماز پالی۔''
٭یاد رہے کہ مسجد ِحرام ان ممنوعہ اوقات سے مستثنیٰ ہے۔ اس میں دن رات کی کسی بھی گھڑی میں نمازاور کوئی دوسری عبادت کی جاسکتی ہے۔سیدنا جبیر بن مطعم﷜ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا:
«يا بني عبد مناف! لا تمنعوا أحدًا طاف بهذا البيت وصلی اَيّة ساعة شاء من ليل أو نهار» ( سنن ترمذی:۸۶۸ وسنن نسائی:۵۸۶ )
''اے بنی عبد ِمناف! کسی کو بیت اللہ کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے نہ روکو خواہ وہ رات دن کی کسی گھڑی میں بھی (یہ عبادت) کررہا ہو۔''
مکروہ مقامات
قبرستان اور حمام: قبرستان اور حمام میں نبی ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے:
سیدنا ابوسعید خدری ﷜سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:«الأرض کلها مسجد إلا الحمام والمقبرة» ( سنن ابوداود:۴۹۲ )
''حمام اور قبرستان کے علاوہ ساری زمین پرسجدہ کیا جاسکتا ہے۔''
اونٹوں کے باڑے میں: اونٹوں کے باڑ ے میں نماز پڑھنا منع ہے۔
سیدنابراء بن عازب﷜ کہتے ہیں کہ نبی ﷺسے اونٹوں کے باڑا میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپﷺ نے فرمایا:
«لا تُصَلُّوا في مَبَارك الإبل» (سنن ابوداود:۴۹۳ )
''اونٹوں کے باڑوں میں نماز نہ پڑھو۔''

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...